قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 204 of 365

قسمت کے ثمار — Page 204

کہ میری تکفیر پر کمر بستہ ہونے والے (اپنے گھر کی خبر لے ) تیرا گھر برباد ہورہا ہے اور تو دوسروں کی فکر میں پڑا ہوا ہے۔یہ ہماری تاریخ کا ایک کھلا باب ہے کہ وہ مولوی صاحب باوجود اپنی ابتدائی مقبولیت اور علمی کمال کے بڑی حسرت و ناکامی سے دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا دیئے گئے اور آج کوئی ان کی آخری آرامگاہ تک کو نہیں جانتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد خانه ات ویران تو در فکر دگر مذکورہ بالا عظیم الشان نشان کے علاوہ اس قرآنی رہنمائی و ہدایت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ تمہارے لئے ضروری اور لازم ہے کہ اپنی اصلاح و بہتری کے لئے کوشاں رہو کیونکہ اس صورت میں کسی کی گمراہی اور بے راہ روی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اس ارشاد میں یہ رہنما اصول ملتا ہے کہ سب سے زیادہ اور مقدم امر اصلاح و تزکیہ نفس ہے۔وہ لوگ جو اس جہادا کبر سے غافل ہو کر بزعم خویش دوسروں کی اصلاح و بہتری کے لئے تگ و دو کرتے رہتے ہیں ان کا اپنا خانہ خراب ہو جاتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم پوری توجہ سے اس اہم فرض کی ادائیگی کے لئے کوشش کرتے رہیں کہ اپنی غلطیوں کو اپنے سامنے رکھ کر ان کی ایک ایک کر کے اصلاح کرتے چلے جائیں۔یہ مقصد اتنا اہم ، اتنا وسیع اور اتنا متنوع ہے کہ اس کی بجا آوری میں ہی ساری عمر لگ جائے تو بھی غنیمت ہے۔اس جہاد میں دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں کی جستجو کے لئے نگاہ اٹھا کر دیکھنے کا کم ہی موقع ملے گا۔عجب مغرور و گمراہ ہے وہ ناداں کہ اپنے نفس کو چھوڑا ہے بے راہ بدی پر غیر کی ہر دم نظر ہے مگر اپنی بدی سے بے خبر ہے الفضل انٹرنیشنل 24 جون 2005ء) 204