قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 203 of 365

قسمت کے ثمار — Page 203

اس زمانہ میں عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے مخالفت میں اور زیادہ تیزی آگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مخالفت کو اشاعت و تبلیغ کے لئے مفید اور کار آمد سمجھتے ہوئے خدمت اسلام کے میدان کو اور وسیع کر دیا۔آریوں اور عیسائیوں سے حضور علیہ السلام کے مناظرات و مقابلے اسی زمانہ میں ہوئے۔اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے مدلل و مسکت جواب دے کر اور مخالفین پر اسلامی علم کلام اور آسمانی نشان نمائی سے حجت تمام کر دی۔مولوی صاحب مذکور نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیر معمولی خدائی تائید و نصرت اور اس کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی برکات اور کامیابیوں کا مشاہدہ کیا تو ان کا حوصلہ اور ظرف جواب دے گیا اور بجائے اس کے کہ وہ پہلے کی طرح تعریف و تائید کر کے خود بھی صالحین و مقربین میں شامل ہو جاتے حضور کی مخالفت پر اتر آئے اور خدا تعالیٰ کے ماموروں اور پیاروں کی کامیابی کے راز کو نہ سمجھتے ہوئے یہ سمجھنے لگے کہ اس ترقی میں ان کے تبصرہ اور تائید کا دخل ہے اور پھر یہ بھی تعلی کی کہ جس طرح میں نے مرزا صاحب کو اوپر چڑھایا ہے اسی طرح ان کو نیچے بھی گرا دوں گا۔اپنے اس مذموم مقصد کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کفر کا فتویٰ تیار کیا اور اس کو زیادہ موثر بنانے کے لئے پورے ہندوستان کے علماء سے اس کی تصدیق کروا کے وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت کی۔دنیا جانتی ہے کہ حق وصداقت کی آسمانی چمک ایسی انسانی کوششوں سے کم نہیں ہوا کرتی۔یہ فتویٰ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ترقی و کامیابی میں کوئی رکاوٹ بننے کی بجائے کھاد کے طور پر مفید ثابت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ان کی ضد و تعصب بڑھتی چلی گئی۔حضور نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے پئے تکفیر ما بستہ کمر خانه ات ویران تو در فکر دگر 203