قسمت کے ثمار — Page 205
وقف عارضی ایک بابرکت تحریک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی نے حاضر ہو کر عرض کی کہ حضور میں سیرو سیاحت کی غرض سے جانے کا پروگرام بنا رہا ہوں مجھے اجازت مرحمت فرمائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سياحة امتی فی الجہاد۔میری امت کی سیر و سیاحت تو جہاد ہے۔عام طور پر مذکورہ بالا سوال کے یہ دو جواب ذہن میں آتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی وجہ سے ان کے سیاحت کے لئے سفر پر جانے کو پسند نہ فرماتے تو وہ وجہ بیان کر کے ان کو روک دیتے اور اجازت نہ دیتے اور دوسری صورت میں اگر حضور صلی اینم کو ان کے سفر پر جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا تو ان کو بخوشی اجازت دیتے اور اپنے عام طریق مبارک کے مطابق سفر کے بابرکت ہونے کی کوئی دعا بھی سکھا دیتے۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کا نہایت پر حکمت جواب مرحمت فرما یا اور نہایت مختصر تین چار لفظوں میں ایسا جواب دے دیا جس میں عقل و دانش کا ایک جہان پوشیدہ تھا۔آپ نے جس پر حکمت انداز سے مذکورہ سوال کا جواب دیا اس میں یہ تعلیم اور رہنمائی پائی جاتی ہے کہ جو کام بھی کیا جائے اس میں اعلیٰ مقصد اور اجتماعی مفاد کو ضرور مد نظر رکھا جائے۔وہ شخص جسے جہاد میں شمولیت کی سعادت حاصل ہو وہ مختلف مقامات کی طرف جانے کی وجہ سے سیر و سیاحت 205