قسمت کے ثمار — Page 196
ارادہ و منشاء سے قائم ہوئی تھی وہ اپنی بے سروسامانی ، تعداد کی قلت اور مخالفت کی مشکلات کے باوجود ہر سمت میں کامیابی وکامرانی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔اللّهُمَّ زِدْ وَبَارك الفضل انٹرنیشنل 20مئی 2005ء) پاکستان کے سفیر سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ۔U۔K کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمدیہ، اسلام اور پاکستان کے سفیر کی خدمت بجالا رہی ہے۔جب پاکستان قائم ہوا تو بہت ہی بے سروسامانی اور پریشانی کی صورت تھی۔مشرقی پنجاب اور دوسرے صوبوں سے مسلمان نہایت پریشانی کی حالت میں لئے لیٹے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے۔لاکھوں کی تعداد میں ان خانماں بر بادلوگوں کی آبادی و بحالی کے نہ تو انتظامات تھے اور نہ ہی اتنے وسائل تھے۔کراچی میں پاکستان حکومت کے اکثر و بیشتر دفا تر عارضی بیرکوں میں بنائے گئے تھے جہاں نہ تو ضروری فرنیچر موجود تھا اور نہ ہی سٹاف اور سٹیشنری۔آہستہ آہستہ یہ سامان مہیا ہونا شروع ہوا۔تاہم ابتدائی کام کرنے والوں کو بہت مشکلات کا سامنا تھا۔اور انہوں نے صحیح معنوں میں مجاہدانہ روح کے ساتھ ابتدائی مشکلات پر قابو پایا اور مطالبات اور شکووں اور شکایات کی بجائے ایک فرض سمجھتے ہوئے پاکستان کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ان مشکل حالات میں قائد اعظم نے اپنی فراست ، معاملہ نہمی سے کام لیتے ہوئے حضرت 196