قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 197 of 365

قسمت کے ثمار — Page 197

چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بینی شمن کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا۔یہ قائد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی طرف سے ایک طرف تو حضرت چوہدری صاحب بیان کی قیام پاکستان کے سلسلہ میں مفید و مؤثر خدمات کا اعتراف تھا اور دوسری طرف حضرت چوہدری صاحب نبی اللہ کی غیر معمولی قابلیتوں اور صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی۔اس وقت گنتی کے چند بڑے بڑے ممالک میں پاکستان کے سفارتخانے قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔دنیا کے بیشتر ممالک میں نہ تو پاکستان کے سفارتخانے موجود تھے اور نہ ہی کوئی سفیر۔تا ہم جماعت احمدیہ نے پاکستان کے غیر سرکاری سفیروں کا کام اپنے ذمہ لے لیا اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد بنا شو کی مصلحانہ رہنمائی میں اپنے وطن کو باعزت طریق سے دنیا میں متعارف کروایا۔ایک لمبے عرصہ تک بیرونی دنیا میں پاکستان، اسلام اور احمدیت کو باہم ایک اکائی کے طور پر جانا جاتا رہا۔اور یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں ہے۔کہ بشمول برطانیہ، یورپ بھر میں لندن ماسک، مسجد فضل لندن ہی تمام مسلمانوں کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔مسجد فضل کی اس حیثیت اور شہرت کی وجہ سے قائد اعظم کی سیاسی زندگی کے دوسرے دور کا آغاز مسجد فضل لندن سے ہوا۔جہاں آپ نے اپنا پہلا خطاب کیا اور جو اس وقت کے پریس میں مسجد فضل کے حوالہ سے ہی شائع کیا گیا۔علامہ اقبال کو اس مسجد میں نومسلم بچوں کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھ کر اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے ان بچوں کو اپنی جیب سے انعام دے کر اپنی خوشی و پسندیدگی کا اظہار کرناضروری سمجھا۔ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے ابتدائی زمانے میں مسلم لیگ اور اسی طرح کشمیری مسلمانوں کی آزادی اور ڈوگرہ مظالم سے انہیں بچانے کے لئے آل انڈیا مسلم کانفرنس کی ہر طرح کی مدد ہماری جماعت نے حضرت مصلح موعود بنی ان کی غیر معمولی مدبرانہ رہنمائی میں کی اور اس زمانے میں مسلم لیگ کے پاس بعض اوقات اپنے جلسے کرنے کے لئے ضروری اخراجات بھی نہ ہوتے تھے تو انہیں قادیان سے اخراجات بھجوائے جاتے تھے۔اور مسلم لیگ کے ہر جلسے میں قادیان سے 197