قسمت کے ثمار

by Other Authors

Page 195 of 365

قسمت کے ثمار — Page 195

مسلمان کہلانے والوں نے ہی کی مگر اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتر از گمان و دو ہم شان اور قرآن مجید کی دائمی، مسلسل و اعجازی شان کو دلائل و براہین اور روشن نشانوں کی مدد سے ثابت کرتے ہوئے اپنے خدا داد منصب و مقام کا حق ادا کر دیا۔1908ء میں آپ کی وفات افراد جماعت اور اسلام کے تمام بہی خواہوں کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ تھا تا ہم آپ اپنی وفات سے پہلے رسالہ ” الوصیت میں اپنے قرب وفات کے الہامات کے علاوہ جماعت کو آئندہ لائحہ عمل کے متعلق جو رہنمائی دے چکے تھے اس کے مطابق آپ کی وفات سے اگلے ہی روز متفقہ طور پر حضرت مولانا نورالدین بنی یہ خلافت کے مقام پر فائز ہوئے۔اس نظام کے قیام سے خدائی تائید و نصرت کا سلسلہ بھی قائم ہوگیا اور جماعت احیاء دین وقیام شریعت کے بابرکت سفر پر گامزن ہو گئی۔حضرت مولانا نورالدین ہی نہ اپنی کمال انکساری کے ساتھ ساتھ حد درجہ متوکل انسان ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے بہت ہی مقرب انسان تھے۔آپ قرآن مجید سے والہانہ محبت وعقیدت رکھتے تھے اور یہی جذ بہ جماعت میں پیدا کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔آپ بیلی عنہ نے اپنے تبحر علمی اور وسعت تجربہ کے پیش نظر خلافت کے نظام کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا۔جماعت اس وقت خلافت خامسہ کے مبارک دور میں داخل ہو چکی ہے۔خلافت کی برکات اتنی زیادہ ، اتنی نمایاں اور مسلسل ہیں کہ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی کہ خلافت کی اہمیت کیا ہے۔دنیا والوں نے کئی دفعہ کوشش کی ہے کہ وہ اس عظیم نعمت کو پھر سے حاصل کریں۔اس غرض کے لئے دنیاداروں کے طریق پر بڑی زور دار تحریکیں بھی چلائی گئیں مگر تحریک خلافت خواہ سلطنت عثمانیہ کی دوام کی شکل میں ہو، خواہ ابوالکلام آزاد کی طلاقت لسانی اور فصاحت و بلاغت ہو اور خواہ مولا نا محمد علی جو ہر کی ولولہ انگیز قیادت میں ، وہ سب اپنی موت آپ مرگئیں۔اور وہ خلافت جو خدا تعالیٰ کے 195