قسمت کے ثمار — Page 184
”اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی اس دنیا میں رہتے ہوئے انسان مختلف قسم کے تعلقات اور رشتہ داریوں کا تجربہ کرتا ہے۔بعض تعلقات اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا جیسے والدین اور اولاد کا رشتہ ہے کہ اس میں کوئی انتخاب اور مرضی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کی مشیت و منشاء سے ہی یہ اور اس سے پیدا ہونے والے دوسرے سارے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔اس کے برعکس بعض تعلقات میں انسان کو کسی قدر اختیار ہوتا ہے مثلاً ازدواجی رشتوں میں انتخاب اور پسند کا بھی دخل ہوتا ہے۔ان میں مشورے اور دعا سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ان کے علاوہ باہم دوستی اور میل ملاقات کے انفرادی، قومی اور بین الاقوامی تعلقات ہوتے ہیں۔قرآن مجید نے ان سب تعلقات کے متعلق نہایت حکیمانہ رہنمائی فرمائی ہے۔دوستی عام طور پر ایک بہت ہی سادہ اور بے ضر رقسم کا تعلق سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایسے تعلقات بھی انسان کی زندگی میں بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی غالباً ہر زبان میں اس کے متعلق محاورے پائے جاتے ہیں۔جیسے کہا جاتا ہے: کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز 184