قسمت کے ثمار — Page 185
صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالع تر اطالع کند اسی طرح کہتے ہیں: حدیث میں آتا ہے کہ : الْمَرْئُ عَلَى دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ مَنْ يُخَالِلْ انسان اپنے دوست سے اثر لیتا ہے اور اس کے مذہب و طریقے پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ دوستی کرنے سے پہلے یہ اچھی طرح دیکھ لیا جائے کہ ہم کس قسم کے انسان سے دوستی کر رہے ہیں۔برے دوستوں سے تعلق کے نتیجہ میں برائیوں اور خرابیوں کی مثالیں تو قدم قدم پر ملتی ہیں۔اچھا تعلق اور اچھی دوستی خوش قسمتی کی علامت اور خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہوتی ہے۔ایسی ایک دوستی آنحضرت مسی ای ایام اور ان کے قابل رشک دوست حضرت ابوبکر بنی الہیہ کی دوستی ہے۔حضرت ابو بکر بنی تھے۔اس دوستی کی برکت سے یہ یقین رکھتے تھے کہ میرا دوست کبھی کوئی غلط بات نہیں کرتا اور پھر جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے دوست نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے تو حضور صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔دعوئی کے متعلق سوال کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ حق و صداقت کی مخالفت کے عام رجحان کی وجہ سے میں اس مخلص یکرنگ دوست کی دوستی سے محروم نہ ہو جاؤں اور میرا دوست ہدایت سے بے نصیب نہ رہ جائے ، بدلائل اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی۔مگر دوسری طرف حضرت ابوبکر بیان بھی اپنی دوستی اور عقیدت کو بحث ، دلیل طلبی اور حجت بازی کا داغ نہیں لگنے دینا چاہتے تھے اس لئے باصرار یہی پوچھا کہ کیا آپ نے ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے۔مثبت جواب ملنے پر بکمال شرح صدر اوّل المومنین ہونے کے منفرد اعزاز پرفائز ہو گئے۔اور پھر حق رفاقت و دوستی کو اسی طرح نبھایا جس طرح نبھانے کا حق تھا۔ہجرت جیسے مشکل اور جان جوکھوں کے موقع پر آپ بکمال اخلاص ہمراہ تھے۔غارثور میں خطرناک دشمن سر پر پہنچ گئے 185