قسمت کے ثمار — Page 183
انسان جو اپنے سامنے بڑے بڑے مقاصد رکھتا ہے وہ تو ایک عملی انسان ہے جو اپنی ترقی و بہتری کے لئے مسلسل کوشاں رہتا ہے۔منعم علیہ لوگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صراط مستقیم اور جادہ اعتدال سے کبھی الگ نہیں ہوتا۔کامیابی اس کے قدم چومتی اور خدا تعالیٰ کی رضا اس کو نصیب ہوتی ہے۔ظلم کے طریق کو اختیار کرنے والا اور اس غلط طریق سے باز نہ آنے والا شخص عاقبت نا اندیش ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو قادر مطلق سمجھنے لگتا ہے۔فرعون نے اپنی طاقت اور ظالمانہ رویہ کی وجہ سے ہی اپنے کو آنار بكُمُ الاغلی سمجھنے کی غلطی کا ارتکاب کیا۔ہر بادشاہ اور صاحب اقتدار جو یہ سمجھنے لگ جائے کہ آنا أخي وَآمِنتُ میں زندگی اور موت پر اختیار رکھتا ہوں یا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو جائے کہ میرے اقتدار کی کرسی بہت مضبوط ہے یا اسے یہ زعم ہو جائے کہ میں اس بات کی قدرت رکھتا ہوں کہ جسے چاہوں اسے سرطان اور بیماری قرار دے کر ختم کر دوں وہ ظالم اپنے عمل سے انار بكُمُ الأغلى کا دعویٰ کرتا ہے۔ایسے لوگ بھیا نک انجام سے دو چار ہوتے ہیں اور ان کے اس عبرتناک انجام سے اللہ اکبر کی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا اور قابل حمد وستائش ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بداخلاقی سے بکلی اجتناب کرنے اور اچھے اخلاق پر کار بندر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔الفضل انٹرنیشنل 22 اپریل 2005ء 00 183