قسمت کے ثمار — Page 119
کالمبا سفر اور مذہبی و اخلاقی رہنمائی اور تجربات سے جو کچھ حاصل کیا تھا اسے ضائع کر کے پھر سے جانوروں والی زندگی شروع کرنے والی بات لگتی ہے۔مذکورہ بالا اخراجات پر دوبارہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ شادی جیسا ضروری اور مقدس معاہدہ رسم ورواج کی آکاس بیل کے کابوس میں پھنس کر اپنی اصلی شکل اور مقصد کو ہی کھو بیٹھا ہے۔بظاہر یہ دلچسپ رپورٹ اپنے اندر بہت اہم اور قابل غور امور لئے ہوئے ہے۔اخراجات کی کثرت اور ایسے ہی بعض امور کو بنیاد بنا کر مغربی معاشرہ آہستہ آہستہ شادی کے خلاف ہوتا جارہا ہے اور اس سے بچنے کا جو طریق رائج ہو رہا ہے وہ مذاہب عالم کی رہنمائی اور انسانی تجارب و تاریخ کی نفی کرتا ہے کیونکہ با ہم ایک عہد وفا باندھ کر اس پر زندگی بھر عمل پیرا رہنا ہی دنیا بھر کے تمام مذاہب کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔بعض فرضی اور موہوم نقصانات سے بچنے اور وقتی منافع اور لذتوں کو تلاش کرنے کے لئے شادی سے فرار کی راہ اختیار کی جاتی ہے۔اخراجات کی زیادتی کا جہاں تک تعلق ہے یہ ایک نوجوان جوڑے کے لئے اپنی شادی شدہ زندگی گزارنے میں ضرور مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے مگر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اخراجات کی زیادتی کسی مذہبی تعلیم کے نتیجہ میں ہے یا خود ساختہ ہے۔اور پھر یہ بھی کہ اخراجات کی زیادتی سے بچنے کے لئے اخراجات میں کمی کا سوچنے کی ضرورت ہے یا سرے سے شادی کے مقدس عہد کو ہی ختم کر دیا جاوے۔اسلامی تعلیم کے مطابق تو شادی پر زیادہ اخراجات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میاں بیوی کی رضامندی حاصل کرنے اور نکاح کا اعلان کرنے میں تو شاید ہی کچھ خرچ اٹھتا ہو۔مہر اور دعوت ولیمہ پر ضرور خرچ ہوتا ہے مگر وہ بھی فضول خرچی، اسراف نمائش وغیرہ سے ہٹ کر کیا جائے تو کوئی زیادہ خرچ نہیں ہوتا۔اور یہ اصول بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ وہ شخص جو نمود و نمائش کی خاطر اپنی وسعت 119