قواریر ۔ قوامون — Page 71
61 اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے ہیں تم بلاک ہو جاؤ گا بلبنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مانگا کرو۔پلٹ کر جواب نہ دو اور آپ سے کنارہ کشی نہ کرنا۔اپنی زائد ضرورت کے لئے مجھ سے مانگ لیا کرو اپنی پڑوسن کو دیکھ کر دھوکا نہ کھانا کیونکہ وہ تم سے خوبصورت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پیاری ہے۔ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔حضرت عمر نے فرمایا کہ ان دنوں ہم میں پھر چا تھا کہ خشان کا بادشاہ ہم سے لڑنے کے لئے گھوڑوں کے کھروں میں تعلیں لگوا رہا ہے۔پس میرا انصاری کا سے ساتھی ایک روز اپنی باری پر عشاء کے وقت واپس لوٹا۔اس نے بڑے زور سے میرا دروازہ پیٹیا اور کہا گیا وہ ہیں ؟ میں ڈر گیا اور باہر نکل کر اس کے پاس آیا۔اس نے کہا کہ آج تو بہت بڑا حادثہ ہو گیا میں نے کیا ور کیا انسان کا بادشاہ آگیا ؟ اس نے کہا وہ بالکہ اس سے بھی بڑا ہو ناک واقعہ که نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دہی۔پس میں نے کہا کہ خقصہ نامراد ہوئی اور خسارے میں رہی ، میرا خیال بھی یہی تھا کہ عنقریب ایسا ہو گا۔میں نے اپنے کپڑے سنبھالے اور صبح کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی۔پس نبی کریم صلی اللہ علیک سلیم اپنے بالی منانے میں تشریف لے جا کر ایک گوشے میں جا کر جلوہ افروز ہو گئے اور میں حفصہ کے پاس پہنچا تروه رو رہی تھیں۔میں نے کہا در روتی کیوں ہو ، کیا میں تمہیں ڈور انا نہ تھا، بتاؤ کیا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیک سلیم نے طلاق دے دی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن آپ کن مراکش ہو کہ بالا خانے میں جلوہ افروز ہیں۔میں باہر نکلا اور منبر شریف کی جانب گیا جب کہ وہاں کتنے ہی افراد تھے اور بعض دو ر ہے تھے۔میں تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا لیکن ماہی ! بے آب کی طرح مضطرب ہوکر بنی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے بالا خانے کی طرف چل پڑا۔میں نے آپ کے عیشی غلام سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت تو طلب کرد۔غلام اندر داخل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم سے گفتگو کر کے واپس لوٹا اور کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم سے کہا اور آپ کا ذکر کیا لیکن حضور خاموش رہے پس میں واپس لوٹ آیا اور جو لوگ منبر کے پاس تھے ان کے پاس آبیٹھا۔جب دل بے قرار ہو گیا تو پھر حاضر ہوا اور غلام سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت تو طلب کرو۔وہ اندر گیا اور جب واپس لوٹا تو کہا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا تھا لیکن حضور خاموش رہے۔پس میں واپس لوٹ آیا اور جولوگ منبر کے پاس تھے ان میں آبیٹھا۔جب دل بے قرار ہو گیا تو پھر حاضر ہوا