قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 70 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 70

سارة كلهن فكأن مثل ما قالت عائشة (صحیح بخاری شریف) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ حضرت عمری سے نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں دریافت کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اِن تنوبا إلى الله فَقَد صَغَتْ قُلُوبُكُمَا فرمایا ہے۔ایک مرتبہ وہ حج کے لئے گئے اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا۔راستے میں وہ قضائے حاجت کے لئے ایک طرف گئے تو میں پانی کا لوٹا لے کر ادھر چلا گیا۔جب وہ فارغ ہو کر آئے تو میں نے ہاتھ ملائے پھر انہوں نے وضو کیا۔میں عرض گزار ہوا اسے امیر المومنین ! نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ سلم کی وہ نے وضو دو بیویاں کون سی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان تنوبا إلى اللہ فرمایا ہے؟ فرمایا اسے کی ابن عباس ! تم پر تعجب ہے، وہ عائشہ اور حفصہ ہیں۔پھر حضرت عمر نے مثل سابق حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور میرا ایک انصار کی ہمسایا ہم دونوں مدینہ منورہ کے عوالی میں رہائش پذیر تھے۔ہم دونوں بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی کی خبریں باری باری حاصل کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روز وہ آتا اور ایک روز میں آیا کرتا اور واپسی پرانے ساتھی کر دی اور آپ کے ارشادات عالیہ کے متعلق بتا دیا جاتا۔چنانچہ جب بھی آتے تو دونوں ایسا ہی کرتے ہمارے ہاں قریش کی جماعت عورتوں پر غالب رہتی تھی لیکن جب ہم یہاں آئے تو انصاری حضرات پر عورتوں کو غالب پایا۔چنانچہ ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کا اثر قبول کرنے لگیں میں نے ایک دفعہ اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے مجھے پلٹ کر جواب دیا مجھے اس کا جواب دینا ناگوار گزرا۔اس نے کہا : آپ میرے جواب دینے کو نا پسند کیوں ٹھہراتے ہیں جب کہ خدا کی قسم، بنی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی ازواج مطہرات آپ کو پلٹ کر جواب دیتی ہیں اور ایک تو ان میں سے سارا دن شام یک آپ کو چھوڑے رکھتی ہے۔کیلیں اس بات سے ڈور گیا اور میں نے کہا کہ ان میں سے ایسا کرنے والی تو خسارے ہیں ہے۔پھر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور باشگاه عالی کی جانب روانہ ہو گیا چنانچہ حفصہ کے پاس پہنچا اور اس سے کہا نہ اے حفصہ ! کیا تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو سارا دن شام تک ناراض رکھتی ہے ؟ اس نے جواب دیا ہر ہال میں میں نے کہا کہ تم نامراد ہوئیں اور خسارے میں ہو۔کیا تمہیں اس بات کا خیال نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کی ناراضگی میں