قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 72 of 87

قواریر ۔ قوامون — Page 72

۷۲ اور غلام سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت تو طلب کرو۔وہ اندر گیا اور جب واپس لوٹا تو کہا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا تھا لیکن حضور خاموش رہے پس میں واپس لوٹ آیا اور جولوگ نمبر کے پاس تھے نہیں بٹھا بھی جب مجور پیشانی کا غلبہ ہوا تو میں نے غلام کے پاس جاکر کہا کہ عمر کے لئے اجازت تو طلب کر و۔وہ اندر داخل ہوا اور جب لوٹ کو میرے پاس آیا تو کہا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا تھا لیکن حضور خاموش رہے۔جب میں واپس لوٹ رہا تھا تو غلام نے مجھے آواز دی اور کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیک ہم نے آپ کو اجازت مرحمت فرما دی ہے۔پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کوئی کپڑا بچھائے بغیر گھر بری چٹائی پر محو استراحت ہیں اور چٹائی کے جسم اطہر پر نشانات بنے ہوئے تھے اور چمڑے کا تکیہ سرہانے تھا جو کھجور کی چھال سے بھرا ہوا تھا میں سلام کر کے کھڑے ہی کھڑے عرض گزار ہوا در یا رسول اللہ ! کیا حضور نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا نہیں۔پس میں نے تکبیر کہی اور کھڑے ہی کھڑے عرض گزارہ ہو تا کہ حضور کار دل پہلے کہ یا رسول اللہ ! ہم قریش تو عورتوں پر غالب رہتے ہیں لیکن جب بہم مدینہ منورہ میں آئے تو یہاں کے حضرات پر عورتوں کو غالب دیکھا۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا : یا رسول اللہ ! کاش آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوتا کہ ہمیں حفصہ کے پاس گیا تو میں نے اس سے کہا کہ اپنی ہمسائی کو دیکھ کر دھوکا نہ کھا جانا، وہ تم سے خوبصورت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو سب سے پیا یہی ہے۔ان کی مراد حضرت عائشہ سے تھی۔پس نبی کریم صلی اللہ علی سلیم نے دوسری مرتبہ تبسم فرمایا۔ب میں آپ کی تبسم بریزی کو دیکھ کر بیٹھ گیا۔جب میں نے آپ کے کا شائہ اقدس میں نظر دوڑائی تو خدا کی قسم مجھے آپ کے کاشانہ رسالت کے اندر تین کھالوں کے سوا اور کچھ بھی نظرنہ آیا۔میں عرض گذارہ ہوا کہ یارسول اللہ ادا کیجیے کہ اللہ تعالے آپ کی امت کے لئے کشادگی فرمائے کیونکہ ایران اور روم کے لوگوں پر کتنی کشادگی فرمائی گئی اور انہیں کتنا دُنیا کا مال دیا گیا ہے حالانکہ وہ خدا کو نہیں پوجتے پس نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم اُٹھ بیٹھے حالانکہ آپ ٹیک لگائے آرام فرما تھے پھر فرمایا ہر اے ابن خطاب! کیا تم اسی خیال میں ہو ؟ اس قوم کو ان کی بھلائیوں کا بدلہ دنیا کی زندگی میں جلدی ہی مل جاتا ہے۔ہمیں عرض گزار ہوا اور یا رسول اللہ ! میرے لئے مغفرت کی دعا کیجیئے۔اس