قواریر ۔ قوامون — Page 7
ہے کہ باتِهَا النَّاسُ القَوْا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا (نساء) رکونم) یعنی اے انسانو! اپنے رب کا تقوی اختیار کرد جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی سے اُس کی قسم کا جوڑا بنایا۔اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انسانیت ایک جوہر ہے۔یہ کہنا کہ انسانیت مرد ہے یا یہ کہنا کہ انسانیت عورت ہے غلط ہے۔انسانیت ایک علیحدہ چیز ہے۔وہ نفسِ واحدہ ہے۔اس کے دو ٹکڑے کئے گئے ہیں۔آدھے کا نام مرد ہے اور آدھے کا نام عورت جب یہ دونوں ایک ہی چیز کے دو ٹکڑے ہیں تو جب تک یہ دونوں نہ ملیں گے اُس وقت تک وہ چیز مکمل نہیں ہوگی۔وہ بھی کامل ہوگی جب اُس کے دونوں ٹکڑے جوڑ دیئے جائیں گے۔یہ اسلام نے عورت مرد کے تعلق کا اصل الاصول بتایا ہے کہ مرد اور عورت علیحدہ علیحدہ انسانیت کے جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔اگر انسانیت کو مکمل کرنا چاہتے ہو۔تو ان دونوں ٹکڑوں کو ملانا پڑے گا۔ورنہ انسانیت مکمل نہ ہوگی اور جب انسانیت مکمل نہ ہوگی تو انسان کمال حاصل نہ کر سکے گا۔خوا کی پیدائش آدم کی پہلی سے نہیں ہوئی اس آیت پر لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ معلوم ہوا خوا آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی تھی جب کہ بائیل میں ہے۔لیکن یہ درست نہیں۔کیونکہ اول تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کرمن كُلّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (ذاریات آیت ٥٠) ۵۰) یعنی ہم نے ہر چیز کا جوڑا بنایا ہے۔تو کیا انسان کا جوڑا بنانا نعوذ باللہ اسے یاد نہ رہا