قواریر ۔ قوامون — Page 6
اس وجہ سے وہ اس سے مل کر ایک بدن ہو جائے گا۔اور مرد کو طبعا عورت کی طرف رغبت رہے گی۔یہ کہ ان کا مل کر رہنا اچھا ہو گا یا نہیں اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا صرف فطری تعلق کو لیا گیا ہے۔ہندو مذہب نے شادی کی ضرورت پر کچھ نہیں لکھا۔صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ شادی اُن کے دیوتا بھی کرتے تھے۔پھر بندے کیوں نہ کریں گے۔مگر ساتھ ہی بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ نجات کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ انسان سب دنیا سے الگ ہو کر عبادست کمرے بنوجی نے جن کی تعلیم ہندو مانتے ہیں یہ بھی بتا یا ہے کہ پچیس سال تک کنوارہ رہنا چاہیئے پھر پچیس سال تک شادی شدہ رہے۔لیکن ویداس بارہ میں بالکل خاموش ہیں جو ہندوؤں کی اصل مقدس کتاب ہے۔شادی کی ضرورت۔اس کی حقیقت اور اس کے نظام وغیرہ کے متعلق منو وغیرہ بھی خاموش ہیں۔بدھ سب نے شادی نہ کرنے کو افضل قرار دیا ہے، کیونکہ پاکیزہ اور اعلی خادمان مذہب کے لئے شادی کو منع کیا ہے۔خواہ عورت ہو خواہ مرد یہی چین مذہب کی تعلیم ہے۔ب اسلام کو دیکھو تو معلوم ہوتا ہے کہ اس تعلق کو اُس نے کس طرح نہایت اعلیٰ مسئلہ بنادیا ہے اور اسے دین کا جزو اور روحانی ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔۔اسلام شادی کو ضروری قرار دیا ہے اس بارہ میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مردا ور عورت کا تعلق ہونا چاہیئے۔اور کیا انہیں اکٹھے زندگی بسر کرنی چاہئے ، قرآن کریم اس کے متعلق کہتا ہے کہ شادی ضروری ہے۔نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ جو بیوہ ہوں اُن کی بھی شادی کر دینی چاہیئے۔اور شادی کرنے کی دلیل یہ دنیا