قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 8 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 8

تھا کہ آدم کی پسلی سے توا کو نکالا گیا ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ خواہ خیالات ہوں عقلیات ہوں۔احساسات ہوں، ارادے ہوں۔اُن کے بھی جوڑے ہوتے ہیں۔کوئی ارادہ کوئی احساس کوئی جذبہ مکمل نہیں ہو سکتا جب تک دو مقابل کے ارادے۔اور دو مقابل کے احساسات اور دو مقابل کے جذبات نہ ملیں۔اسی طرح کوئی حیم مکمل نہیں ہوسکتا جب تک دو جسم نہ ملیں۔کوئی حیوان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک دو میوان نہ ملیں۔کوئی انسان مکمل نہیں ہو سکتا جب تک دو انسان نہ ملیں۔پس جب اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ ہر چیز کے جوڑے بنائے گئے ہیں۔تو کون تسلیم کرے گا کہ پہلے آدم کو بنایا گیا اور پھر اسے اور اس کو دیکھ کر اس کی پہلی سے خود کو بنایا۔قرآن تو کہتا ہے کہ ہر چیز کے جوڑے ہیں۔اس لئے جب خدا تے پہلا ذرہ بنایا تو اس کا بھی جوڑا بنایا۔پھر خود انسان کے متعلق آتا ہے وَخَلَقَكُمْ أَزْوَاجًا (سورہ نباع ) ہم نے تم سب لوگوں کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔پھر آدم کسی طرح اکیلا پیدا ہوا۔اس کا جوڑا کہاں تھا ؟ دوسرے ہی الفاظ که خَلَقَكُم مِّنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا تمہیں نفس واحدہ سے پیدا کیا گیا اور اُس میں سے تمہارا جوڑا بنایا۔سارے انسانوں کے متعلق بھی آئے ہیں لیکن ان کے یہ معنی نہیں کئے جاتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاللهُ جَعَلَ لَكُمُ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا - (سورة محل : ۷۳) کہ اے بنی نوع انسان ! اللہ نے تمہارے نفسوں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں۔اب کیا ہر ایک بیوی اپنے خاوند کی پہلی سے پیدا ہوتی ہے ؟ اگر نہیں تو پہلی آیت کے بھی یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ انسان کا جوڑا اُس میں سے پیدا کیا گیا۔اسی طرح سورۃ شوری رکوع میں آتا ہے جَعَلَ لَكُم مِّنْ