قواریر ۔ قوامون — Page 5
اسی طرح 1 کرنتھیوں باب ، میں لکھا ہے در مرد کے لئے اچھا ہے کہ عورت کو نہ چھوٹے لیکن حرام کاریوں کے اندیشے سے ہر فرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے۔" میں بے بیا ہوں اور بیوہ عورتوں کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ اُن کے لئے ایسا ہی رہنا اچھا ہے۔جیسا میں ہوں۔لیکن اگر فیط نہ کر سکیں تو بیاہ کریں۔16 گور یا عورت مرد اگر بن بیا ہے رہیں تو پسندیدہ بات ہے۔یہود میں یوں تو نہیں لکھا لیکن مرد اور عورت کے تعلقات کے متعلق کوئی صاف حکم بھی نہیں۔تورات میں صرف یہ لکھا ہے کہ خداوند نے آدم پر بھاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا۔اور اُس نے اُس کی پیلیوں میں سے ایک پہلی نکالی۔اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا۔اور خداوند خدا اس پہلی سے جو اس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کہ آدم کے پاس لایا اور آدم نے کہا۔کہ اب یہ میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔اس سبب سے وہ ناری کہلائے گی۔کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی۔اس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی جورو سے ملارہے گا۔اور وہ ایک تن ہوں گے۔“ (پیدائش باب ۲ آیت ۲۱ تا ۲۴) ان الفاظ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عورت چونکہ مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی ہے