قواریر ۔ قوامون — Page 27
۲۷ کلام ہے۔اس میں خدا تعالیٰ ایک بات کو اُسی حد تک ننگا کرتا ہے جس حد تک اخلاق کے لئے اس کا عریاں کرنا ضروری ہوتا ہے۔باقی حصہ کو اشارہ سے بنا جاتا ہے لیپس انی ستحم میں تو اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے کہ یہ تمھاری کھیتی ہے اب میں طرح چاہو سلوک کرو لیکن یہ نصیحت یاد رکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سامان ہی پیدا کرنا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتو گے۔یہ ایک طریقی کلام ہے جو دنیا میں بھی رائج ہے۔مثلا ایک شخص کو ہم رہنے کے لئے مکان دیں۔اور کہیں کہ اس مکان کو جس طرح چاہو رکھو۔تو اس کا مطلب اُس شخص کو ہوشیار کرنا ہو گا کہ اگر احتیاط نہ کرو گے تو خراب ہو جائے گا۔اور تمہیں نقصان پہنچے گا۔اسی طرح جب لوگ اپنی لڑکیاں بیا ہے ہیں تو لڑکے والوں سے کہتے ہیں کہ اب ہم نے اسے تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے۔جیسا چاہو اس سے سلوک کرد۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اسے ہجوتیاں مارا کرو۔بلکہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تمہاری چیز ہے اسے سنبھال کر رکھو۔پس آنی شستہ کا مطلب یہ ہے کہ عورت تمھاری چیز ہے اگر اس سے خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے لئے میرا ہوگا۔اور اگر اچھا سلوک کر دگے تو اچھا ہو گا۔دراصل اس آیت سے غلط نتیجہ نکالنے والے آئی کو پنجابی کا انہ سمجھ لیتے ہیں اور یہ معنے کرتے ہیں کہ انھے واہ کرو۔(فضائل القرآن ۱ تا ۱۸۶ ) ہماری دردمندانہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سید نا حضرت مصلح الموعود کی ہدایات پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق بخشتے آمین رَبَّنَا هَبْ لَنا من أزواجِنَا وَذُرِّيَّتِنا قرة أعينُ وَاجْعَلْنَا المتقين إماماه آمنين