قواریر ۔ قوامون — Page 28
ماں کی دُعا کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا اس جہاں میں ہے وہ جنت میں ہی بے ریب ے گماں و جو اک پختہ تو کل سے ہے جہاں تیرا میری اولاد کو تو ایسی ہی کر دے پیارے دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرہ تاباں تیرا عمر دے ، رزق دے اور عافیت و صحت بھی سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا اس جہاں کے نہ نہیں کیڑے ، یہ کر فضل ان پر ہر کوئی ان میں سے کہلائے مسلماں تیرا میرے پیارے مجھے ہر درد و مصیبت سے بچا ہے غفار یہی کہتا ہے اُتر آں تیرا ہر مصیبت سے بچا اے مرے آقا ہر دم حکم تیرا ہے ، زمیں تیری ہے ، دوراں تیرا (دریمین )