قواریر ۔ قوامون — Page 26
۲۶ اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہر حالت میں اولاد پیدا کرنا ہی ضروری ہے۔کسی صورت میں بھی یہ تھ کنٹرول جائز نہیں وہ غلط کہتے ہیں کھیتی میں سے اگر ایک فصل کاٹ کر معا دوسری بودی جائے تو دوسری فصل اچھی نہیں ہوگی۔اور تیسری اس سے زیادہ خراب ہوگی ، اسلام نے اولاد پیدا کرنے سے روکا نہیں بلکہ اس کا حکم دیا ہے لیکن ساتھ ہی بتایا ہے کہ کھیتی کے متعلق خدا کے میں قانون کی پابندی کرتے ہو اسی کو اولاد پیدا کرنے میں مد نظر رکھو جس طرح ہوشیار زمیندار اس قدر زمین سے کام نہیں لیتا کہ وہ خراب اور بے طاقت ہو جائے یا اپنی ہی طاقت ضائع ہو جائے۔اور کھیت کاٹنے کی بھی توفیق نہ رہے یا کھیت خراب پیدا ہونے لگے۔اسی طرح تمہیں بھی اپنی عورتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اگر بچہ کی پرورش اچھی طرح نہ ہوتی ہو اور عورت کی صحت خطرہ میں پڑتی ہو تو اس وقت اولاد پیدا کرنے کے فعل کو روک دو۔تیسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔تو اولاد پر اچھا اثر ہو گا۔اور اگر ظالمانہ سلوک کرو گے تو اولاد بھی تم سے بے وفائی کرے گی۔پس ضروری ہے کہ تم عورتوں سے ایسا سلوک کرو کہ اولاد اچھی ہو ، اگر بد سلوکی سے کھیت خراب ہوا تو دانہ بھی خراب ہوگا ، یعنی عورتوں سے پاک سلو کی اولاد کو بد اخلاق بنا دے گی۔کیونکہ بچہ ماں سے اخلاق سیکھتا ہے۔چوتھی بات یہ بتائی کہ عورت سے تمہارا صرف ایسا تعلق ہو جیں سے اولاد ہوتی ہو۔بعض نادان اس سے خلاف وضع فطری فعل کی اجازت سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ وہ عمل کرو میں سے کھیتی پیدا ہو، قرآن کریم تو با تعالی کا