قواریر ۔ قوامون — Page 25
۲۵ چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی جواب دیا ہے۔فرمایا ہے۔نساؤكم حرث تَكُمْ فَأْتُوا حَرْنَكُمْ إِلَى شِتْتُهُ وَقَد مُو الأَنفُسِكُمُ القره آیت (۲۳۲) تمہاری ہویاں تمہارے لئے بطور کھیتی کے ہیں۔تم جس طرح چاہو ان میں آؤ۔اس پر کوئی کہ سکتا ہے کہ جب یہ کہا گیا ہے کہ ہم جس طرح چاہیں کریں تو اچھا ہم تو چاہتے ہیں کہ عورتوں سے تعلق نہ رکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وقدموا لانفسكم اس طرح آؤ کہ آگے نسل پہلے اور یادگار قائم رہے ہیں تم اس تعلق کو برا نہ سمجھنا۔اس آیت میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں۔ا نمد دمادہ کے تعلق کی اجازت دی ہے لیکن ایک نظیف اشارہ سے یعنی عورت کو کھیتی کہ کہ بتایا کہ انسانی عمل محدود ہے۔اسے غیر محدود بنانے کے لئے کیا کرنا چاہئیے۔یہی کہ نسل چلائی جائے۔پس جس طرح زمین ہو تو اُسے کاشتہ کار نہیں چھوڑتا۔تم کیوں اس ذریعہ کو چھوڑتے ہو جس سے تم پھل حاصل کر سکتے ہو۔اگر ایسا نہیں کروگے تو تمہارا بیج ضائع ہو گا۔۲۔دوسری بات یہ بتائی کہ عورتوں سے اس قدر تعلق رکھو کہ نہ اُن کی طاقت ضائع ہوا اور نہ تمہاری۔اگر کھیتی میں بیج زیادہ ڈال دیا جائے تو بیج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھیتی سے پے یہ پلے کام لیا جائے تو کھیتی خراب ہو جاتی ہے پس اس میں بتایا کہ یہ کام مدیری کے اندر ہونا چاہئیے جس طرح عقلمند کسان سوچ سمجھ کر کھیتی ہے کام لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کسی حد تک اس میں بیچ ڈانا چاہیئے۔اور کس حد تک کھیت سے فصل لینی چاہئے۔اسی طرح تمہیں کرنا چاہیئے۔