قواریر ۔ قوامون — Page 24
۲۴ اور کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ ایک مرد و عورت کی آپس میں نا چاتی رہتی ہے۔اور آخر طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے لیکن اس مرد کی کسی اور عورت سے اور اس عورت کی کسی اور مرد سے شادی ہو جاتی ہے تو وہ بڑھی محبت اور پیار سے زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عورت مرد کا ٹکڑا تو ہے لیکن جب صحیح ٹکڑا ملا ہے تب امن اور آرام حاصل ہوتا ہے۔پس مرد عورت کو اپنا ٹکڑا سمجھ کر اس پر رحم کرتا ہے۔اور اس طرح اُسے رحم کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور پھر بر جگہ اس علوت کو استعمال کرتا ہے۔وہ لوگ جو ڈاکے ڈالتے اور لوگوں کو قتل کرتے ہیں وہ بھی اگر بیوی بچوں میں رہیں تو رحمدل ہو جاتے ہیں۔لیکن علیحدہ رہنے کی وجہ سے اُن میں بے رحمی کا مادہ بڑھ جاتا ہے۔اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ مجرموں کو جیلوں میں رکھنے کی وجہ سے جرم بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ علیحدہ رہتے ہیں اور اکس طرح سنگ دل ہو جاتے ہیں۔گویا مرد عورت کے تعلق کے ذریعہ انسان کو رحم کا ایک مدرسہ مل جاتا ہے جس میں تربیت پا کر وہ ترقی کرتا ہے اور خدا کے رحم کو کھینچ لیتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عورت و مرد کا تعلق ایک پر حکمت تعلق ہے۔اس کو توڑنا انسانیت کو ناقص اور سلوک کو ادھورا کر دیتا ہے۔اور اسے قائم کرنے سے خدا تعالیٰ کی طرف رغبت میں سہولت پیدا ہوتی ہے نہ کہ روک۔عورت کو کھیتی قرار دینے میں حکمت اب پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ۔۔مرد وعورت کسی اصل پر تعلق رکھیں، یورپ کے بعض فلا سفر ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ تربیت اخلاق کے لئے شادی تو ضروری ہے لیکن تعلقات شہوانی مضر ہیں۔یہ تعلقات نہیں رکھتے