قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 23 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 23

۲۳ چونکہ انسانوں کو کامل کرنا مقصود تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے احساسات مرد اور عورت میں رکھے کہ مرد چاہتا ہے عورت کو جذب کرے اور عورت چاہتی ہے مرد کو جذب کرے لیکن خدا تعالیٰ کو بندہ جذب نہیں کر سکتا۔اس لئے بندوں کے لئے تَحِبَّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ يا اَشَدُّ حُيَّا لِلَّهِ آتا ہے يَوَدُّونَ اللہ نہیں آتا۔مرد و عورت میں اللہ تعالیٰ نے مودت کا تعلق رکھ کر بتایا کہ ہم نے اس طرح ایک نفس کے دو ٹکڑے بنا کہ ایک دوسرے کی طرف کشش پیدا کر دی ہے۔اور ہر ٹکڑا دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اس طرح طبعا متکمیل انسانیت کی صورت یدا ہوتی رہتی ہے ورنہ اگر اللہ تعالی یہ موقت پیدا نہ کرتا تو شادی بیاہ کے جھمیلوں سے ڈر کر کئی لوگ شادیاں بھی نہ کرتے اور کہتے کہ کیوں خرچ اٹھائیں۔اور ذمہ داریوں نگاه کے نیچے اپنے آپ کو لائیں۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے مرد اور عورت میں مودة پیدا کر دی ہے اس لئے شادی بیاہ کے جھمیلے برداشت کر لیتے ہیں۔مرد و عورت کے ذریعہ ایک مدرسہ رحم کا اجماع | تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ اس زراجہ سے رحمت پیدا کی گئی ہے۔کیونکہ نفس جس چیز کے متعلق یہ محسوس کرے کہ یہ میری ہے اُس سے رحم کا سلوک کرتا ہے۔مرد جب عورت کے متعلق سمجھتا ہے کہ یہ میرا ہی ٹکڑا ہے تو پھر اس ٹکڑے کی حفاظت بھی کرتا ہے لیکن ہے کوئی کہے کہ بعض مردوں عورتوں میں نا جاتی اور لڑائی جھگڑا بھی تو ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت اسی جگہ ہوتی ہے جہاں اصل ٹکڑے آپس میں نہیں ملتے۔جہاں اصل کیسے ملتے ہیں وہاں نہایت امن اور چین سے زندگی میسر ہوتی ہے