قواریر ۔ قوامون — Page 22
۲۲ حاصل ہوتا ہے اور انسان اپنے قلب میں اطمینان پاتا ہے یہاں تک کہ اُسے ایک نئی پیدائش حاصل ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا مغرب بن جاتا ہے۔یہ روحانی علم النفس کا ایک وسیع مسئلہ ہے کہ انسان کے جتنے اخلاق ہیں اُن میں سے بعض رجولیت کی قوت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض نسائیت کی قوت سے جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تب اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔مگر یہ مضمون چونکہ اس وقت میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اس لئے میں نے اس کی طرف صرف اشارہ کر دیا ہے۔مرد و عورت میں مودت کا مادہ دوسری بات خدا تعالیٰ نے یہ بنائی که وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً ( سوره روم آیت (۲۲) اس ذریعہ سے تم میں مودت پیدا کی گئی ہے۔مورت محبت کو کہتے ہیں۔لیکن اگر اس کے استعمال اور اس کے معنوں پر ہم غور کریں تو محبت اور موقت میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ سورۃ اس محبت کو کہتے ہیں جو دوسروں کو اپنے اندر جذب کر لینے کی طاقت رکھتی ہے لیکن محبت میں یہ شرط نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ مودت کا لفظ بندوں کی آپس کی محبت کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کو اور عورت مرد کو جبیت لینا چاہتی ہے۔ان میں سے جو دوسرے کو جیت لیتا ہے وہ مرد ہوتا ہے اور جسے جیت کیا جاتا ہے وہ عورت ہوتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ نہیں رکھا گیا۔کیونکہ بندہ کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو جذب کر سکے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ بندہ خدا کے لئے ودود ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے آیا ہے کہ وہ ودود ہے دہ بندہ کو جذب کر لیتا ہے۔مگر مرد و عورت کے لئے مودۃ کا لفظ استعمال فرمایا ہے