قواریر ۔ قوامون — Page 15
ہیں، اور روح اسی جسم کے ذریعہ کام کرتی ہے۔یہ بات عام لوگوں کی نظروں سے غائب ہے۔نادان سائنس والے حسیم کی حرکات دیکھ کر کہتے ہیں کہ روح کوئی چیز نہیں اور روحانیت سے تعلق رکھنے کا دعوی کرنے والے علماء جو قرآن نہیں جانتے وہ کہتے ہیں کہ روح حیم سے علیحدہ چیز ہوتی ہے۔حالانکہ روح اور جسم ایک دوسرے سے بالکل پیوست ہیں۔جہاں اللہ تعالیٰ نے رُوح کو علوم اور عرفان کے خزانے دیئے ہیں وہاں ان خزانوں کے دریافت کی تڑپ اور ان کے استعمال کو جسم کی کوششوں کے ساتھ وابستہ کہ دیا ہے جب جسم ان کی تلاش اور تجسس کرتا ہے تو وہ نکلتے آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوئی پاگل خدار سیدہ نہیں ہو سکتا ورنہ اگر روح جسم سے الگ ہوتی اور اُس کا جسم سے کوئی تعلق نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ پاگل کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہونا۔کیونکہ پاگل کا دماغ خراب ہوتا ہے اور دماغ جسم سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ روح سے۔مگر ایسا نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ پاگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرفوع القلم قرار دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ حمد العالی ان کو دوبارہ عمل کا موقعہ دے گا۔اگر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا صرف روح کا کام تھا جسم کا اس میں کوئی دخل نہ تھا تو وہ مسکی تو کہر ہی چکی تھی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جسم روح سے بالکل پیوستہ ہے جسم میں خداتعالی نے ایسی طاقتیں رکھی ہیں جو دو فایت کو بڑھانے والی ہیں۔رجولیت یا نسائیت سے متعلق قوتوں کا رُوح سے تعلق انہی قوتوں میں سے ہو انسان کو ابدیت کے حصول کے لئے دی گئی ہیں ایک اُس کی ان غدودوں کا فعل ہے جو جولیت یا نسائیت سے متعلق ہیں۔یہ غدود جسم کے ہی حصے نہیں بلکہ رح