قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 16 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 16

14 سے بھی ان کا تعلق ہے در زمرد کو خوجہ بننے سے روکا نہ جاتا۔پھر ہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء کے بھی بیوی بچے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ اعضاء روحانیت کے لئے ضروری ہیں۔بلکہ اُن سے روحانیت مکمل ہوتی ہے۔رجولیت یا نسائیت کی اصل غرض در حقیقت بقا کی حس پیدا کرنے کی خواہش ہے۔اس خواہش کے ماتحبت رجولیت اور نسائیت کے دو دیقا کی دوسری صورت کا کام دیتے ہیں لینی نسل کشی ، گویا نسل انسانی کے پیدا کرنے کا ذریعہ ان غدودوں کے نشوونما کا ایک ظہور ہے۔اور دہی طاقت جو روح کی بقا کا ذریعہ ہے۔اُس کو اللہ تعالٰے نے دنیا کی بقا کا ذریعہ بھی بنا دیا۔اور یہ بقا اولاد کے ذریعہ ہوتا ہے۔روح کی ترقی سے لبقاء ابدی حصل ہوتا ہے، اور اولاد کے ذریعہ جسمانی بقا ہوتا ہے۔اس لئے بقاء پیدا کر نے والی زائد طاقت کو اس کے لئے استعمال کر لیا گیا۔اگر کوئی کہے کہ پھر جو انات میں اس طاقت کے رکھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے لئے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی پیدائش مختلف دوروں کے بعد ہوتی ہے۔پہلے چھوٹا جانور بنا۔پھر بڑا ، پھر اس سے بڑا اور آخر میں انسان پیدا کیا گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَا تَكُمْ لا تُرجُونَ لِلَّهِ وَقَان تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم خدا کے لئے وقار پسند نہیں کرتے اور تم کہتے ہو کہ خدا جلدی کر دے وَقَدْ خَلَقَكُم اَطوار اگر نوح آیت ۱۴ - ۱۵) تم اپنی پہلی پیدائش کو دیکھو کہ کتنے عرصے میں ہوئی ہے۔بغرض انسان مختلف دوروں کے بعد بنا ہے۔اور انہی دوروں b میں سے حیوانات بھی ہیں۔میں تمام حیوانات در حقیقت انسانی مرتبہ تک پہنچنے کی سیڑھیاں