قواریر ۔ قوامون

by Other Authors

Page 14 of 29

قواریر ۔ قوامون — Page 14

۱۴ مرد و عورت ایک دوسرے کیلئے سکون کا موجب ہیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیئے کہ یہاں تو صرف یہ ذکر ہے کہ مرد کے لئے عورت سکون کا باعث ہے۔یہ ذکر نہیں کہ عورت کے لئے بھی مرد سکون کا باعث ہے۔یہ مفہوم جو مرد و عورت کے تعلقات کا بنایا گیا ہے تب درست ہوتا جب دونوں ایک دوسرے کے لئے سکون کا موجب ہوں۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیئے کہ دوسری جگہ خدا تعالی فرماتا ہے هُن لباس لكم وانتم لباس لهن البقره آیت ۱۸۰ یعنی عورتیں تمہارے لئے باس ہیں اور تم اُن کے لئے لباس ہو۔میں موجب سکون اور آرام ہوتے ہیں دونوں برابر ہیں۔عورت مرد کے لئے سکون کا باعث ہے اور مرد عورت کے لئے۔مرد و عورت دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہیے۔اگر کوئی نہا دھو کر نکلے لیکن کیلے کچیلے کپڑے پہن لے تو کیا وہ صاف کہلائے گا۔کوئی شخص خواہ کس قدر صاف ستھرا ہو لیکن اس کا لباس گندہ ہو تو وہ گندا ہی کہلاتا ہے۔بس هُنَّ لِبَاسٌ تَكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ تھ میں مردا ور عورت کو ایک دوسرے کا نیکی بدی میں شریک قرار دیا ہے اور بنایا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہیئے۔اس طرح بھی لِتَسْكُنُوا را کپیٹھا کا مفہوم پورا ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے لئے بطور رفیق سفر کے کام کرتے ہیں۔روحانی طاقتوں کی جسمانی طاقتوں سے لونگی حقیقت یہ ہے کہ بہت لوگوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ روحانی طاقتیں جسمانی طاقتوں سے اس دنیا میں وابستہ