قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 92 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 92

92 ایک متنفس کو بھی زندہ نہ چھوڑا گیا اور باوجود تو بہ کے سب کو ایک ہی دن میں قتل کر دیا گیا۔نہیں نہیں۔میں بھول گیا ایک کو چھوڑ دیا گیا یعنی سامری کو۔باجود یکہ وہ اس گوسالہ پرستی کا بانی مبانی تھا قتل نہ کیا گیا۔( بلکہ اس کو بجائے قتل کے بائیکاٹ کی سزا دی گئی۔غالباً اس لئے کہ دوسرے تائب ہو گئے تھے اور یہ تائب نہیں ہوا تھا۔) مولوی صاحب کی اس تفسیر پر پہلے تو میں یہ سوال کرتا ہوں کہ مولوی صاحب کو یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ گوسالہ پرستوں کو قتل کرنے کا حکم ان لوگوں کو دیا گیا جو گوسالہ پرستی میں شریک نہیں تھے؟ یہ ان کو کس طرح معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل کے کیمپ میں دو گروہ تھے ایک وہ جو گوسالہ پرستی میں شریک ہوئے اور ایک وہ جو اس سے مجتنب رہے؟ ایسے گروہ کا نہ تو قرآن شریف سے پتا چلتا ہے نہ بائبل سے۔پس اگر مولوی صاحب اپنی تفسیر اور استدلال کو صحیح ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ان کا یہ فرض ہے کہ پہلے یہ ثابت کریں کہ جس گروہ کو قتل کی سزا سے مستثنیٰ کیا گیا تھا اور جن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ گوسالہ پرستوں کو قتل کر دیں وہ اس شرک میں شریک نہیں ہوئے تھے ؟ جب تک مولوی صاحب اس گروہ کے وجود کا یقینی اور قطعی ثبوت پیش نہیں کریں گے۔ان کی تفسیر اس قابل نہیں کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے۔اور ان کا استدلال سراسر باطل ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں خود وہ آیت جس سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ ہر ایک گوسالہ پرست کو قتل کیا گیا تھا اور صرف انہی لوگوں کو مستثنیٰ کیا گیا تھا جو گوسالہ پرستی میں شامل نہیں ہوئے تھے ان کے معنوں کو رڈ کر رہی ہے۔کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ حکم انہی لوگوں کو دیا گیا تھا جو گوسالہ پرستی کے مرتکب ہوئے تھے اور وہی لوگ اس حکم کے مخاطب تھے۔مولوی صاحب نے استدلال کرتے وقت آیت کے الفاظ کو نظر انداز کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں کو جن کو فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمُ کا حکم دیتا ہے یہ جرم لگاتا ہے۔اِنَّكُمُ ظَلَمْتُمُ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ مَگر مولوی