قتل مرتد اور اسلام — Page 91
91 طرف رجوع کرو پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو۔“ اور مولوی صاحب اس آیت کی تفسیر اس طرح پر کرتے ہیں کہ قوم میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کو نہیں پوجا تھا ان میں سے ہر ایک نے اپنے عزیز وقریب کو جس نے گوسالہ پرستی کی تھی اپنے ہاتھ سے قتل کیا اور اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ چونکہ گوسالہ پرست مرتد ہو گئے تھے اس لئے ان پر گوسالہ پرستی کے جرم میں یہ حد جاری کی گئی کہ ان کو قتل کر دیا گیا اور قرون خالیہ کے جن احکام و شرائع کو قرآن نے نقل کیا ان کی پیروی و اتباع ہمارے لئے ضروری ہے جب تک کہ خاص طور پر ہمارے پیغمبر یا ہماری کتاب اس حکم سے ہم کو علیحدہ نہ کر دیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم بھی اس واقعہ سے سبق حاصل کر کے مرتدین کو قتل کر دیا کریں۔پھر ساتھ ہی مولوی شبیر احمد صاحب یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان مقتولین نے قتل سے پہلے تو یہ بھی کی تھی اور اس کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے ہیں۔وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوْا لَبِنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف: 150) اور جب وہ شرمندہ ہو گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ گمراہی میں پڑ گئے تھے تو انہوں نے کہا اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے گا اور ہمیں معاف نہ کرے گا تو ہم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔مگر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ اگر چہ وہ تائب بھی ہو گئے مگر باوجود تو بہ کے ان کو قتل کر دیا گیا۔فرماتے ہیں کہ ان مقتولین کی تعداد ہزاروں سے کم نہیں تھی اور ان کو محض ارتداد کے جرم میں نہایت اہانت اور ذلت کے ساتھ قتل کیا گیا اور تو بہ بھی ان کو خدائی سزا سے محفوظ نہ کر سکی۔مولوی صاحب کے نزدیک قاتل وہ لوگ تھے جو بنی اسرائیل میں سے اس گوسالہ پرستی میں شریک نہیں ہوئے تھے۔لیکن جو لوگ شریک ہوئے تھے ان میں سے