قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 93 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 93

93 صاحب فرماتے ہیں کہ فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ کا حکم ان لوگوں کو دیا گیا تھا جنہوں نے اتخاذ عجل کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔اب مولوی صاحب فرما ئیں کہ ہم کس کو سچا سمجھیں۔اللہ تعالیٰ کو یا مولوی صاحب کو؟ غرض اگر بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ گوسالہ پرستی کے وقت بنی اسرائیل کے دوگر وہ ہو گئے تھے۔ایک وہ جو اس فعل میں شریک ہو گئے تھے اور دوسرے وہ جنہوں نے اس سے اجتناب کیا۔تب بھی مولوی صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔کیونکہ جس آیت میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس میں وہی لوگ مخاطب ہیں جو اس کاروائی میں شریک ہوئے تھے۔پس مولوی صاحب کی یہ تفسیر کہ قاتلین وہ لوگ تھے جو اس فعل میں شریک نہیں ہوئے تھے۔خود آیت قرآنی کی رو سے غلط ٹھہرتی ہے اس لئے ان کا استدلال بھی باطل ٹھہرتا ہے۔جب قاتل بھی گوسالہ پرستی میں شریک تھے تو ان کو کیوں قتل نہ کیا گیا؟ اگر تھوڑی دیر کے لئے مولوی صاحب کی پیش کردہ تفسیر کو صحیح بھی مان لیا جاوے تب بھی مسئلہ ارتداد کے متعلق اس سے استدلال نہیں ہوسکتا۔خود مولوی شبیر احمد صاحب قتل مرتد کے مسئلہ کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: مرتد کو اولاً سمجھاؤ۔اس کے شبہات کا ازالہ کرو۔اگر وہ خدا کی کھلی کھلی آیات دیکھنے اور واضح دلائل سننے کے بعد بھی اپنے معاندانہ ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور اپنی ہوا و ہوس یا اوہام باطلہ کی پیروی سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کی جماعت کو اس کے 66 زہر یلے وجود سے پاک کر دو۔“ پھر اس مسئلہ کی مندرجہ ذیل مثال کے ذریعہ توضیح فرماتے ہیں :۔ایک شخص اتفاقاً گھوڑے سے گر پڑا۔ٹانگ ٹوٹ گئی۔ہڈی کے ریزے ادھر ادھر گھس گئے۔سول سرجن کا کام یہی ہے کہ ہڈی کو جوڑے۔زخم صاف کرے۔پٹی باندھے