قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 90 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 90

90 حامیان قتل مرتد کے دلائل پر نظر اب ہم قرآن شریف کی تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر نظر کر چکے ہیں اور دیکھ چکے ہیں که قرآن شریف اول سے لے کر آخر تک ضمیر کی آزادی کے اصول کو قائم رکھتا ہے اور کسی قسم کے جبر واکراہ کی اجازت نہیں دیتا۔اسلامی تعلیم کے محل میں ہم مختلف دروازوں سے داخل ہو چکے ہیں اور اس کے ایک ایک کونہ کو دیکھا ہے کہیں بھی قتل مرتد کی تعلیم کی ذرہ بھر بھی تائید نہیں پائی جاتی۔برخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعلیم قرآن شریف کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور ایسی تعلیم کوقرآن جیسی کتاب کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے۔مولوی شبیر احمد صاحب کی پیش کردہ آیت اب مناسب ہے کہ حامیان قتل مرتد کے دلائل کو بھی دیکھا جائے کہ ان میں کہا تک صحت اور درستی پائی جاتی ہے۔سب سے پہلے میں مولوی شبیر احمد صاحب دیو بندی کے دعوی کو لیتا ہوں۔وہ اپنے ایک رسالہ ”الشہاب میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں جو مرتد کے قتل پر دلالت کرتی ہیں۔لیکن ایک آیت کریمہ میں قتل مرتد کا حکم نہایت تصریح اور ایضاح کے ساتھ پایا جاتا ہے اور وہ آیت یہ ہے إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلى بَارِيكُم فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ (البقرة:55) جس کا ترجمہ مولوی صاحب اس طرح پر کرتے ہیں۔”اے قوم بنی اسرائیل ! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔تو اب خدا کی