قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 58 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 58

58 دیکھا دیکھی مسلمان بھی ارتداد اختیار کرلیں گے کیونکہ ان کے مرتد ہوتے ہی جب ان کو قتل کیا جاتا تو اس نظارہ کو دیکھ کر تو جو لوگ ارتداد کے لئے تیار ہوتے وہ بھی رک جاتے نہ کہ اور بھی ارتداد پر آمادہ ہو جاتے۔پس اس غرض کا متعین کرنا بھی صاف ظاہر کر رہا ہے کہ مرتدین کے قتل کا کوئی حکم اسلام میں نہیں تھا۔علاوہ ازیں روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی معمولی آنی تجویز نہیں تھی جو سرسری طور پر بعض یہود کے خیال میں آئی اور دل لگی کے طور پر انہوں نے اس کا ذکر کر دیا بلکہ مختلف تفاسیر میں ایسے لوگوں کے اسماء اور ان کی تعداد بھی مندرج ہے جنہوں نے یہ مشورہ کیا اور یہ بھی مذکور ہے کہ انہوں نے اس تجویز پر عمل کرنے کا تہیہ بھی کر لیا۔میں یہاں صرف ایک حوالہ نقل کرتا ہوں۔بحر المحیط جلد 2 صفحہ 493 پر لکھا ہے قال الحسن و السدى تواطا اثنا عشر حبرا من يهود خيبروقرى عرينة وقال بعضهم لبعض ادخلوا في دين محمد اوّل النهار باللسان دون الاعتقاد واكفروا به في اخر النهار و قولوا إِنَّا نظرنا في كتبنا وشاورنا علماء نا فوجدنا محمدًا ليس كذلك وظهر لنا كذبه وبطلان دينه فاذا فعلتم ذلك شك اصحابه فى دينهم و قالوا هم اهل الكتاب فهم اعلم منا فيرجعون عن دينهم الى دينكم فنزلت۔دد یعنی حسن اور سدی بیان کرتے ہیں کہ یہود خیبر اور عرینہ کی بستیوں کے بارہ عالموں نے اتفاق کیا اور ایک دوسرے کو کہا کہ محمد (ع) کے دین میں اوّل روز میں داخل ہو جاؤ صرف زبان سے اقرار کرو اور دل سے نہ مانو ، اور آخر روز میں انکار کر دو اور کہو کہ ہم نے اپنی کتابوں کو غور سے پڑھا ہے اور اپنے علماء سے بھی مشورہ کیا ہے اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ محمد(ﷺ) سچے نبی نہیں ہیں اور ان کا کذب اور ان کے دین کا باطل ہونا ہم پر ظاہر ہو گیا ہے اور جب تم ایسا کرو گے تو محمد (ع) کے ساتھیوں کو اپنے دین