قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 57 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 57

57 جسے عمل میں نہیں لایا گیا اس لئے اس آیت سے استدلال نہیں ہوسکتا کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔مگر ان کی یہ جرح بالکل غلط ہے ہم ایک لمحہ کے لئے فرض کر لیتے ہیں کہ یہود کی یہ صرف ایک تجویز ہی تھی اور اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا پھر بھی یہ آیت اس امر کا ایک قطعی ثبوت ہے کہ مرتدین کو قتل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی اور مرتدین کو قتل کیا جاتا تو وہ کبھی ایسی تجویز ہی نہ کر سکتے کیونکہ اس سے انہیں سوائے اپنے آدمیوں کو ہلاکت میں ڈالنے کے اور کوئی نفع نہیں تھا۔پس ان کا ایسی تجویز کرنا خود اس امر کا یقینی ثبوت ہے که مرتدین کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔یہود کی نسبت یہ امید کرنا کہ وہ کسی ایسی غرض کے لئے اپنی جان کو یقینی ہلاکت میں ڈالنے کے لئے تیار تھے بالکل ناممکن ہے۔ان کے متعلق تو قرآن شریف شہادت دیتا ہے:۔وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيُوةٍ وَمِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا يَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ (البقرة: 97) البتہ تم پاؤ گے کہ یہ لوگ زندگی پر سب لوگوں سے کہیں زیادہ حریص ہیں یہاں تک کہ مشرکین سے بھی (جو قیامت ہی کے قائل نہیں ) ان میں سے ایک ایک چاہتا ہے کہ اے کاش اس کی عمر ہزار برس کی ہو۔“ پھر اس آیت کریمہ میں ایک اور جملہ بھی ہے جو اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ مرتدین کی سزا قتل نہیں تھی اور وہ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ہے۔اس میں ان کی سازش کی غرض بتائی گئی ہے یعنی ایسی تجویز انہوں نے کیوں کی ان کی غرض کیا تھی ؟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ یہ تجویز انہوں نے اس لئے کی تھی کہ ان کے ارتداد کو دیکھ کر دوسرے مسلمان اسلام کے متعلق شک میں پڑ جاویں اور اسلام سے ارتداد اختیار کر لیں۔لیکن اگر یہ دعویٰ درست ہے کہ اسلام میں مرتد کے لئے قتل کی سزا مقر رتھی تو ان کی یہ غرض پوری نہیں ہو سکتی تھی۔جب وہ جانتے تھے کہ ہر ایک مرتد کوقتل کیا جاتا ہے تو انہیں کبھی امید نہیں ہو سکتی تھی کہ ان کی