قتل مرتد اور اسلام — Page 59
59 میں شک پڑ جائے گا اور وہ کہیں گے یہ لوگ اہلِ کتاب ہیں یہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔اس طرح وہ اپنے دین سے برگشتہ ہو کر تمہارے دین کی طرف آجائیں گے۔“ اسی مضمون کی دیگر روایات جن میں ان مشورہ کرنے والوں کے نام بھی دیئے گئے ہیں تفسیر کی دوسری کتابوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔مثلاً ملاحظہ ہو فتح البیان جلد 2 صفحہ 60 - درمنثور جلد 2 صفحه 43,42 - نیز خود قرآن شریف میں اس واقعہ کا ذکر کرنا اور اس کو اہمیت دینا ظاہر کرتا ہے کہ ایسے واقعات ہوتے رہے، ورنہ کیا ضرورت تھی کہ محض ایک خام خیال کو جس کا کوئی اثر نہیں تھا خواہ مخواہ قرآن مجید میں بیان کیا جاتا۔چنانچہ صاحب بحر المحیط لکھتے ہیں اما امتثال الا مرممن امربه فمسكوت عن وقوعه و اسباب النزول تدلّ على وقوعه (بحر المحيط جلد 2 صفحہ 493) یعنی اگر چہ قرآن شریف میں اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ اس تجویز پر عملدرآمد کیا گیا یا نہیں لیکن اسباب نزول اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایسا کیا گیا۔علاوہ ازیں قرآن شریف کے دوسرے مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تجویز پر عمل کیا گیا اور قرآن کریم اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ آنحضور پر نور کے وقت میں ایسے یہودی موجود تھے جو ایسی شرارتیں کرتے تھے۔چنانچہ سورۃ مائدہ رکوع 9 میں اللہ تعالیٰ یہود کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَإِذَا جَاءُ وَكُمْ قَالُوا أَمَنَا وَقَدْ تَخَلُوا بِالْكُفْرِوَهُمْ قَدْ خَرَجُوا بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا يَكْتُمُونَ (المائدة:62) ” ( مسلمانو ! ) جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ کفر ہی کو ساتھ لے کر آئے تھے اور کفر ہی کو ساتھ لے کر چلے بھی گئے اور جو بات وہ دل میں چھپائے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتا ہے۔“