قتل مرتد اور اسلام — Page 27
27 گئے اور طرح طرح کے عذابوں کے ذریعہ ان کو دکھ دیا گیا اور قتل کیا گیا جس کا برعکس نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو مذہبی تشدد سے نفرت پیدا ہوگئی اور مذہبی آزادی کی قدر ان کے دلوں میں قائم ہوگئی۔یہ سبق انہوں نے مسیحیت سے نہیں سیکھا بلکہ مسیحی بزرگوں کی خونریر یوں اور جفا کاریوں سے حاصل کیا لیکن ہم اس سبق کے لئے کسی انسان کے ممنون نہیں بلکہ ہمارا خدا اپنی کتاب میں ہمیں اس اصول کی تعلیم دیتا ہے دیکھو اس بارے میں قرآن شریف کی تعلیم کیسی کھلی کھلی اور واضح ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إنَّ هذه تَذْكِرَةٌ ، فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (المزمل:20) یہ باتیں نصیحت کی ہیں پس جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف پہنچنے کا راستہ اختیار کرے۔بعینہ یہی الفاظ سورۃ دھر میں بھی موجود ہیں۔پھر فرماتا ہے:۔كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ ﴿ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ (المدثر: 56:55) ہرگز ایسا نہیں کیونکہ قرآن تو سرا سر نصیحت ہے، پس جو چاہے اس کو سوچے سمجھے۔پھر فرماتا ہے:۔وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاء فَلْيُؤْمِن وَمَنْ شَاء فَلْيَكْفُرُ (الكهف: 30) اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ یہ قرآن بر حق تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے پس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے۔پھرفرماتا ہے:۔قُلِ اللَّهَ أَعْبُدَ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُمْ مِنْ دُونِ (الزمر:16:18) اے پیغمبر! ان لوگوں سے کہو کہ میں تو خدا ہی کی فرمانبرداری مد نظر رکھ کر اسی کی عبادت کرتا ہوں۔رہے تم سو اس کے سوا جس کو چاہو پو جو۔پھر فرماتا ہے:۔قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيلٍ (يونس: 109)