قتل مرتد اور اسلام — Page 28
28 اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ اے لوگو جوحق بات تھی وہ تو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آ چکی۔پس جس نے راہ راست اختیار کی تو اپنے ہی فائدہ کے لئے اس کو اختیار کرتا ہے اور جو بھٹکا تو وہ بھٹک کر کچھ اپنا ہی کھوتا ہے اور میں تم پر کچھ ٹھیکہ داروں کی طرح تو مسلط ہوں نہیں۔پھر فرماتا ہے۔وَاَنْ اَتْلُوا الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ (النمل: 93) مجھ کو یہ حکم ملا ہے کہ میں لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناؤں پس جو راہ پر آ گیا تو وہ اپنے ہی بھلے کو راہ پر آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو تم کہہ دو کہ جہاں خدا نے اور ڈرانے والے بھیجے ہیں میں بھی ان ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہوں ، اور بس۔ان سب آیات سے یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو آزادی دے رکھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کھول کر بیان فرما دیا ہے اور راہ راست پر چلنے کے فوائد اور کج راہ پر چلنے کے نقصانات بھی بوضاحت بیان فرما دیئے ہیں اس کے بعد انسان اگر چاہے تو ہدایت کی راہ کو اختیار کرے اور چاہے تو دوسری راہ اختیار کرے۔ایسی تعلیم کی موجودگی میں یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام ہی تعلیم دیتا ہے کہ جو لوگ اسلام سے مرتد ہونا چاہیں ان کو تلوار کے زور سے اسلام میں رہنے کے لئے مجبور کیا جاوے اور جو لوگ اسلام میں رہنا منظور نہ کریں ان کو فورا قتل کر دیا جائے۔کیا ایسی قابل نفرت تعلیم ایک لمحہ کے لئے بھی قرآن جیسی کتاب کی طرف منسوب کی جاسکتی ہے جو بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کی راہیں واضح کر کے بیان فرما دی ہیں اور دونوں راہوں کو اختیار کرنے کے نتائج بھی کھول کر بیان فرما دیے ہیں۔پس اب ہر ایک شخص کا اختیار ہے چاہے تو حق کی راہ اختیار کرے اور چاہے تو باطل کی پیروی کرے۔