قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 26 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 26

26 سزا دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظُلِمُونَ (ال عمران: 129 ) (اے پیغمبر) تیرا اس معاملہ میں کچھ دخل نہیں یہ سب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے چاہے تو ان پر فضل کرے اور چاہے تو ان کو عذاب دے دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔إِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا آمُرُهُمْ إِلَى اللهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (الانعام:160) جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ ہو گئے ہیں تیرا ان سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ان کا معاملہ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے پھر جو کچھ وہ کرتے تھے وہ اس کی انہیں خبر دے گا۔اسلام مذہبی آزادی کی تعلیم دیتا ہے مولوی ظفر علی خاں صاحب لکھتے ہیں کہ آزادی ضمیر کا خیال افرنجیت ہے جو مغربی ممالک سے مسلمانوں میں داخل ہوئی۔یہ ایک مستعار خیال ہے جو مسلمانوں نے مغرب سے سیکھا۔لیکن مولوی ظفر علی خاں صاحب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ضمیر کی آزادی کا اصول مغرب کی ایجاد نہیں بلکہ یہ وہ اصول ہے جو سب سے پہلے قرآن شریف نے دنیا کو سکھایا۔آسمان کے نیچے صرف ایک ہی الہامی کتاب ہے جو ضمیر کی آزادی کے اصولوں کو نہایت ہی مضبوط بنیاد پر قائم کرتی ہے۔مذہبی آزادی کے متعلق آج سے 13 سوسال پہلے جو تعلیم قرآن شریف میں دی گئی اس کی نظیر کسی اور الہامی یا غیر الہامی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔اگر مغرب نے ضمیر کی آزادی کا سبق سیکھا ہے تو وہ مسیحیت کے حامیوں کے تشد داور ظلم اور تعدی سے سیکھا ہے۔مذہب کے نام پر مغربی لوگوں پر نا قابل بیان ظلم کئے