قتل مرتد اور اسلام — Page 269
269 نہ رکھتا ہو یا لنگڑا اور اپانچ ہو یا بیمار ہو جو بوجہ بیماری اپنی چار پائی سے اٹھنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو یا ایک بے ضرر بڑھیا عورت ہو ان سب کو بے دریغ قتل کرو۔اب آپ ہی فیصلہ فرما دیں کہ آیا یہ فتویٰ اسلام کے نام کو روشن کرنے والا ہے یا اس کو بدنام کرنے والا ہے۔دو را ئیں ہمارے سامنے ہیں ایک یہ کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے ارتداد کر نے والا کوئی ہو اس کو قتل کیا جائے۔حراب کی کوئی شرط نہیں اور مرتد کو مجبور کرنا چاہیئے کہ وہ دوبارہ اسلام کو قبول کرے ورنہ اس کو قتل کر دینا چاہیئے۔دوسری رائے یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ قتل کیلئے حراب اور فساد فی الارض کی شرط ہے۔ارتداد یا کفر کی سزا دینا کسی حکومت کا کام نہیں یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس لئے اس کو آخرت پر چھوڑنا چاہیئے اور دین میں جبر جائز نہیں۔اب میں اس امر کا فیصلہ کہ ان دو راؤں میں سے کون سی رائے اسلام کی تعلیم کے موافق ہے اور کون سی مخالف ناظرین پر چھوڑتا ہوں وہ فیصلہ کر لیں کہ ان دونوں راؤں میں سے کونسی وہ رائے جو اسلام کی تعلیم اور اس کی روح کے مطابق ہے اور کونسی وہ رائے ہے جو نہ صرف اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے بلکہ اسلام کو بدنام کرنے والی اور اس کے روشن چہرہ پر ایک بدنما داغ ہے۔میں یقین کرتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو انصاف کے ساتھ بغیر کسی تعصب کے اپنی رائے کا اظہار کرے گا وہ یقیناً یہی فیصلہ کرے گا کہ وہی رائے اسلامی تعلیم کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے موافق ہے جس کی رو سے یہ قرار دیا گیا ہے کہ ارتداد اور کفر کی سزا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو محض ارتداد کو قتل کا موجب قرار دیتے ہیں اور جن کی یہ رائے ہے کہ ہر ایک مرتد کو قتل کر دینا چاہیئے خواہ وہ بُڑھیا عورت ہو یا لنگڑا اور اپانچ ہو یا بیمار ہو کیونکہ یہ تعلیم اسلام کی تعلیم اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ مبارکہ کے بالکل مخالف ہے۔آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے سینوں کو اسلام کی تعلیم کے سمجھنے کے لئے کھول دے اور ہمیں حقیقی اور سچے اسلام کی اتباع اور تبلیغ کی توفیق بخشے اور