قتل مرتد اور اسلام — Page 268
268 مرتدین کا ذکر ہے جو محارب ہوں اور یہ نہ دیکھا کہ بعض روایات میں محارب کی شرط موجود ہے۔اس شرط کو نظر انداز کر دیا اور ایسا ہی زمانہ کے حالات کو بھی نظر انداز کیا کہ کن حالات میں یہ حکم دیا۔اس بات کی طرف نہ دیکھا کہ اس زمانہ میں ایک شخص کا ارتداد محض ارتداد تک ہی محدود نہ رہتا تھا بلکہ مرتد ہوتے ہی وہ دشمنوں سے مل کر مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتا اور ایسا شخص دوسرے دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتا تھا کیونکہ یہ مسلمانوں کے حالات سے واقف ہوتا۔۔اسی طرح انہوں نے پڑھا کہ فلاں مرتد کو قتل کیا گیا مگر اس پر غور نہ کیا کہ کیوں قتل کیا گیا۔اس کے بعد انہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے عہد میں مرتدین کی گردنوں پر تلوار چلتی دیکھی مگر یہ نہ دیکھا کہ یہ تلوار کیوں چلائی گئی۔غرض صرف حکم دیکھ لیا اور تمام دوسرے حالات کو نظر انداز کر دیا۔نہ ان جرموں کو دیکھا جو ان مرتدین سے سرزد ہوئے نہ ان ملکی ضرورتوں اور سیاسی مجبوریوں پر غور کیا جن کی وجہ سے خلفاء راشدین ارتداد کرنے والوں کے خلاف تلوار کھینچنے پر مجبور ہوئے اور ان تمام واقعات سے غلطی سے یہ نتیجہ نکال لیا کہ ہر ایک مرتد کی سزا قتل ہے۔مگر یہ خوشی کا مقام ہے کہ اگر بعض علماء نے قتل کوارتداد کی سزا قرار دیا تو بعض علماء نے اس بات کے قبول کرنے سے انکار کیا کہ ارتداد کی سزا قتل ہے اور صاف الفاظ میں لکھ دیا کہ ارتداد اور کفر کے لئے شریعت اسلام نے کوئی سزا مقرر نہیں کی بلکہ اس کو عالم آخرت کے لئے چھوڑ دیا ہے۔اس عالم میں مرتد کو صرف حراب اور فساد فی الارض کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے نہ ارتداد کی وجہ سے۔اب میں ناظرین کے انصاف پر فیصلہ چھوڑتا ہوں کہ وہ ایک طرف تمام قرآن شریف کی تعلیم اور اسلامی تعلیم کی روح اور آنحضرت ﷺ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی تعلیم کو رکھیں۔نیز اسلامی تاریخ کے واقعات پر نظر کریں اور دوسری طرف ان علماء کے فتووں کو دیکھیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے خواہ شیخ فانی ہو جو چلنے پھرنے کی بھی طاقت