قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 267 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 267

267 ہے جو سفیان کا قول ہوتا ہے۔نسائی کہتے ہیں کہ سفیان اس تعریف سے بھی بالا تر ہے کہ ان کی نسبت کہا جائے کہ اس میں نقاہت اور پختگی پائی جاتی ہے اور وہ ان اماموں میں سے ایک امام ہے جن کی نسبت میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو متقیوں کا سردار بنایا ہے اور ابن حبان کہتے ہیں کہ وہ تفقہ اور پر ہیز گاری اور رائے کی مضبوطی میں سادات الناس میں سے ہے۔یہ شان ہے اس شخص کی جس نے بعض دوسرے ائمہ کے علاوہ قتل مرتد کے مسئلہ کا انکار کیا ہے مگر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ قتل مرتد کے فتویٰ میں کبھی کسی فرد واحد نے بھی اختلاف نہیں کیا۔اور ایسے حدیث کے امام کا قطعی انکار ظاہر کرتا ہے کہ حدیث میں کوئی نص قطعی قتل مرتد کے لیے موجود نہیں۔اگر کوئی نص موجود ہوتی تو حدیث کا ایسا جلیل القدر عالم قتل مرتد کے مسئلہ کا کبھی صاف انکار نہ کرتا۔اسی طرح ابراہیم بھی بھی ایک بڑے پائیڈ کے فقیہ ہیں اور اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم مانے گئے ہیں۔اب میں اس سوال کا جواب دے کر کہ زمانہ سلف کے بعض علماء کو قتل مرتد کے متعلق کیوں ایسی غلطی لگی کہ انہوں نے بلا کسی شرط کے مرتد کے قتل کا فتویٰ دیا ؟ اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ غلط خیال اسی طرح پیدا ہوا جس طرح یہ خیال پیدا ہوا کہ اسلام ہر ایک مشرک اور بُت پرست کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔جس طرح بعض لوگوں نے قرآن شریف کی ایک آدھ آیت سے غلطی سے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر ایک مشرک اور بت پرست کو قتل کرنے کا حکم ہے اور اس کے سیاق وسباق کو نظر انداز کر کے اس کو سب مشرکوں پر حاوی سمجھ لیا گیا اور قرآن شریف کی قریباً چار صد آیات کو منسوخ قرار دیا۔اسی طرح بعض علماء نے ایسی روایات سے دھو کہ کھایا جن میں مرتدین کے قتل کا ذکر تھا اور ان روایات کو ہر ایک مرتد پر حاوی سمجھ لیا اور اس امر کی طرف توجہ نہ کی کہ ان روایات میں ایسے