قتل مرتد اور اسلام — Page 251
251 دروازہ پر کھڑا ہو کر کہتا تھا کہ اس میں سب کافر ہیں۔اباحت کی رائے رکھتا تھا۔یحیی بن بکر کہتا ہے کہ مغرب میں خارجی عکرمہ کی وجہ سے پیدا ہوئے۔ابن المدینی کہتا ہے کہ عکرمہ کی رائے نجدہ حروری سے ملتی تھی۔مصعب الزبیری کہتے ہیں کہ مکرمہ خوارج کی رائے رکھتا ہے۔متولی مدینہ نے اس کو طلب کیا مگر وہ داؤد بن حصین کے گھر چھپا رہا۔مرنے تک نہ نکلا اور انہوں نے کہا کہ عکرمہ نے یہ بھی دعوی کیا کہ حضرت ابن عباس خوارج کی رائے رکھتے تھے۔سلیمان بن معبد کہتے ہیں کہ عکرمہ اور کثیر ایک ہی دن مرے مگر لوگوں نے کثیر کا جنازہ پڑھا۔عکرمہ کا جنازہ نہ پڑھا۔ناظرین غور فرماویں کہ اس حدیث کے راوی عکرمہ کی نسبت کس کثرت سے یہ شہادت دی گئی ہے کہ وہ خوارج کی رائے رکھتا تھا بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ مغرب میں خوارج اُسی کی وجہ سے پیدا ہوئے اور یہ کہ حضرت ابن عباس پر بھی افتر ا کرنے سے باز نہیں رہتا تھا اور ان کی نسبت بھی یہی ظاہر کرتا تھا کہ وہ خوارج کی رائے رکھتے تھے۔پس ایسے شخص کی روایت حضرت علیؓ کے خلاف کس طرح صحیح تسلیم کر سکتے ہیں؟ روایت کو غور سے پڑھو اس سے صاف راوی کا یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت علی پر اس امر کا الزام لگائے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض لوگوں کو آگ میں جلایا۔کیونکہ وہ اپنی روایت میں بیان کرتا ہے کہ جب یہ خبر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سنی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو ان لوگوں کو آگ میں نہ جلاتا۔کیونکہ ایسا فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ہے۔آپ نے فرمایا "لا تعذبوا بعذاب الله۔» پس ہم عکرمہ جیسے راوی کی بناء پر حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے مقدس انسان پر یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی خلاف ورزی کی اور ایک ایسا کام کیا جو شریعت کی حد سے خارج ہے اور یہ ایسا فعل ہے کہ خواہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے خلاف ارشاد نہ بھی ہوتا۔تب بھی خود علی رضی اللہ عنہ ایسی پاکیزہ فطرت