قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 250 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 250

250 میں کم تھے۔صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف دس سال کے تھے۔حضرت علی وہ ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انـا مـديـنـة العلم و على بابها پس حضرت علی کی نسبت یہ خیال کرنا کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد لا تـعـذبـوا بعذاب اللہ کا علم نہ تھا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صریح خلاف ورزی میں کئی آدمیوں کو آگ میں جلا دیا ایک خیال باطل ہے۔یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت علی کو بدنام کرنے کے لئے مختلف قسم کے الزام ان پر لگائے گئے اور یہ بھی انہی الزامات میں سے ایک الزام ہے اور ہر ایک مومن کا فرض ہے کہ حضرت علی پر نیک فن کر کے ایسے الزامات سے ان کو پاک ٹھہرائے اور جو شخص اس روایت کا بانی ہے اس کے حالات اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ روایت ایک انتہام ہے جو حضرت علی پر لگایا گیا۔میزان الاعتدال میں اس کی نسبت لکھا ہے کہ عکرمہ کے بارے میں حافظہ کی وجہ سے نہیں بلکہ خوارج کی رائے اختیار کرنے کی وجہ سے کلام ہے۔سعید بن جبیر اگر چہ اسے اپنے سے اعلم بتاتے ہیں مگر ساتھ ہی ابن مسیب اس کو کذاب بھی کہتے ہیں۔عبداللہ بن الحارث کہتا ہے کہ میں علی بن عبد اللہ بن عباس کے پاس گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ عکرمہ باب الحش کے پاس باندھا ہوا تھا۔میں نے کہا کہ میاں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔کہنے لگے کہ یہ خبیث میرے باپ پر افترا کرتا ہے۔حماد بن زید جب مرنے لگے تو فرمایا کہ عذاب الہی سے ڈر کر کہتا ہوں کہ عکرمہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متشابہات اس لئے اتاری ہیں کہ ان کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرے۔محمد بن سیرین اس کو کذاب کہتا ہے۔عکرمہ جب بصرہ میں آیا تو اس کے پاس یونس اور ایوب اور سلیمان التیمی ملنے کے لئے آئے۔اندر سے گانے کی آواز آرہی تھی۔سن کر کہا کہ ملعون کیا ہی خوب گا تا ہے۔پھر یونس اور سلیمان اس کے پاس کبھی نہیں آئے۔ابن المدینی کہتے ہیں کہ عکرمہ ایک مسجد کے