قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 252 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 252

252 کے انسان تھے کہ ان کی اپنی فطرت طبعی طور پر ایسے فعل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی جو ان کے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو نا پسند تھا۔ان زنادقہ کی مثال ایک اور پہلو سے بھی قتل مرتد کے حامیوں کے لئے مفید نہیں۔کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان لوگوں کو دراصل حضرت علی کو خدا بنانے سے کوئی غرض نہ تھی بلکہ اس کا اصل منشاء مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنا تھا۔اس پارٹی کا سرغنہ عبداللہ بن سباء الحمیر ی یہودی تھا۔عبد اللہ بن سباء اور اس کے ساتھیوں کا مختصر حال میں تاریخ کی کتابوں سے ذیل میں نقل کرتا ہوں۔تا ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ کیسے خطر ناک لوگ تھے۔ابن حزم کی مشہور تصنيف الـفـصـل فـي الـمـلـل والاهواء والنحل کی جلد 2 صفحہ 115 پر لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر جو حملہ کیا گیا اور ان کو شہید کیا گیا اس حملہ کا بانی مبانی یہی ملعون ابن سباء تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کہنے والے اسی کے اتباع تھے۔اس کی نسبت کتاب مذکور کا فاضل مصنف لکھتا ہے فـانــه لـعـنـه اللـه أظهر الاسلام لكيد أهله یعنی اس ملعون نے اپنے تئیں مسلمان ظاہر کیا اور اس کی نیت یہ تھی کہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پیدا کرے۔الملل والنحل شارستانی برحاشیہ الفصل لا بن حزم کی جلد 2 صفحہ 11 پر لکھا ہے کہ ابن سباء نے حضرت علی کو کہا انت انت يعني أنت الاله یعنی تو ہی خدا ہے۔اس پر حضرت علیؓ نے اس کو مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا۔تاریخ طبری جلد 6 صفحہ 3191 پر لکھا ہے کہ واقعہ جمل کے وقت حضرت عائشہ نے صلح کے لئے کعب کو قرآن شریف دے کر حضرت علی کے لشکر کی طرف بھیجا۔حضرت علی کی فوج کے آگے آگے سبائی لوگ تھے۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت عائشہ اور حضرت علیؓ کے مابین صلح ہو اس لئے جب کعب قرآن شریف لے کر آئے اور صلح کے لئے بلایا تو سپاہیوں نے ان کو قتل کر دیا اور حضرت عائشہ کے ہودہ پر تیر برسانے شروع کر دئے تا مسلمانوں میں لڑائی شروع ہو جائے اور فتنہ وفساد کی آگ بجھنے نہ پائے۔