قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 195 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 195

195 دوسرا تاریخی واقعہ جو قتل مرتد کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے وہ ابن خطل کا واقعہ ہے جس کو فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قتل کیا گیا۔افسوس کہ صرف مرتد کا لفظ دیکھ لیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیا وہ صرف ارتداد کا ہی مرتکب ہوا تھا یا کوئی اور جرم بھی اس سے سرزد ہوا تھا۔اسی ابن خطل کی نسبت مواہب اللہ نیہ میں لکھا ہے۔وانما امر بقتل ابن خطل لانه كان مسلما فبعثه صلى الله عليه وسلم مصدقا وبعث معه رجل من الانصار و كان معه مولی یخدمه و كان مسلما فنزل منزلا فامر المولى ان يذبح تيسا ويضع له طعاما ونام فاستيقظ ولم يصنع له شَيْئًا فعدا عليه فقتله ثم ارتد مشركًا " وكانت له فتيتان تغنيان بهجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن خطل کے قتل کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ مسلمان تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زکوۃ جمع کرنے کے لئے بھیجا اور اس کے ساتھ ایک انصاری کو بھی بھیجا گیا اور اس کے ساتھ ایک آزادشدہ غلام تھا جو اس کی خدمت کرتا تھا اور وہ مسلمان تھا۔وہ ایک منزل پر اُترا اور غلام کو حکم دیا کہ ایک بکرا ذبح کرے اور اس کے لئے کھانا تیار کرے۔یہ کہہ کر سو گیا۔جب جا گا تو ابھی تک غلام نے کوئی کام نہیں کیا تھا پس اس نے اس پر حملہ کیا اور اس کو قتل کردیا اور پھر مرتد ہوکر مشرک ہو گیا۔اور اس کے پاس دو لونڈیاں تھیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کے شعر گایا کرتی تھیں۔یہ ہیں حالات ابن خطل کے۔اب مولوی صاحبان خود ہی فرماویں کہ کیا اس کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے؟ اس واقعہ نے تو ہمارے ہی دعوی کی تصدیق کی ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے اور یہ کہ اگر کسی مرتد کو قتل کیا گیا تو اسے ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے دوسرے جرموں کی وجہ سے۔