قتل مرتد اور اسلام — Page 194
194 کہا گیا ہے کہ وہ عربی لوگ تھے جنہوں نے چرنے والے اونٹوں پر ڈاکہ مارا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے لیسار کو پکڑا اور قتل کرنے سے پہلے اس کا مثلہ کیا۔اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ ڈالے اور اس کی زبان میں اور اس کی دونوں آنکھوں میں کانٹے گاڑے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف کی وجہ سے مرگیا۔ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے چار فعل سرزد ہوئے۔(۱) قطع امید کی۔(۲) قطع رجل۔(۳) سمل امین۔(۴) غرز الشوک۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا دیتے وقت تین سزائیں دیں یعنی ہاتھوں کا کاٹنا۔پاؤں کا کاٹنا۔آنکھوں میں سلائی پھیرنا۔ان کے چوتھے فعل کی سزا نہیں دی گئی یعنی ان کی زبانوں میں کانٹے نہیں گاڑے گئے۔تعجب ہے کہ حامیان قتل مرتد کھڑے تو اس لئے ہوئے تھے کہ ثابت کریں کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے لیکن ثبوت میں ایسے لوگوں کی مثال پیش کی جنہوں نے ایک جرم کا نہیں بلکہ کئی جرموں کا ارتکاب کیا اور ارتکاب بھی نہایت ہی وحشیانہ طور پر کسی روایت میں یہ درج نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ ان کو ارتداد کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔نہ حضرت انس جو اس واقعہ کے راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ ان کو ارتداد کی وجہ سے سزا دی گئی یا اس سزا میں ان کے ارتداد کا کچھ دخل تھا۔بلکہ روایت سے ظاہر ہے کہ ان کو ان کے وحشیانہ جرائم کی سزا دی گئی۔تاریخ واقعہ سے تو ہمارا دعوای ثابت ہوتا ہے نہ کہ حامیان قبل مرند کا۔ہمارا دعوی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فرد کو بھی محض ارتداد کی وجہ سے کوئی سزا نہیں دی۔اگر دی ہے تو ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر وجوہات سے۔اور جو واقعہ ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے اس سے ہمارے ہی دعوی کی تائید ہوتی ہے نہ کہ حامیان قتل مرتد کی۔کیونکہ یہاں جن لوگوں کو قتل کیا گیا ان کے وہ جرائم صراحت کے ساتھ مذکور ہیں جن کی وجہ سے ان کو سزا دی گئی۔پس یہ واقعہ ہماری تائید میں ہے نہ حامیان قتل مرتد کی تائید میں۔