قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 196 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 196

196 تیسرا تاریخی واقعہ جس کو قتل مرتد کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے وہ مقیس بن صبابہ کا واقعہ ہے جس کو فتح مکہ کے موقع پر قتل کیا گیا اس کی نسبت زرقانی مواہب اللہ نیہ کی شرح میں لکھتا ہے۔كان أسلم ثم اتى على انصارى فقتله وكان الأنصارى قتل اخاه هشاماخطأ في غزوة ذى قرد ظنّه من العدوّ فجاء مقيس فأخذ الديّة ثم قتل الانصاري ثم ارتد ورجع إلى قريش۔یہ مسلمان ہوا پھر جا کر ایک انصاری کو قتل کر دیا اس انصاری نے غلطی سے اس کے بھائی ہشام کو غزوہ ذی قرد میں دشمن سمجھ کر قتل کر دیا تھا۔مقیس نے پہلے دیت لے لی اس کے بعد اس کو قتل کر دیا پھر مرتد ہو کر قریش کے ساتھ جا کر شامل ہو گیا۔اب حامیان قتل مرتد خود ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیں کہ اگر بالفرض یہ شخص مرتد نہ ہوتا تو کیا اس کو چھوڑ دیا جاتا؟ کیا اس کا جرم اس قابل نہ تھا کہ اس کو قتل کی سزادی جاتی؟ ایک صحابی نے غلطی سے اس کے بھائی کو ایک لڑائی میں دشمن سمجھ کر قتل کر دیا اور اس کا خون بہا ادا کر دیا مگر اس نے دیت لینے کے بعد پھر اس صحابی کو قتل کر دیا جیسا کہ زمانہ ھذا میں ریاست کابل نے پہلے اپنے مقتول سپاہی کے عوض میں سلطنت انکی سے دیت لے لی پھر دیت لینے کے بعد سلطنت اٹلی کے آدمی کو قتل بھی کر دیا چنا نچہ اپنے اس فعل کی پاداش ان کو بھگتنی پڑی۔غرض مقیس بن صبابہ کے واقعہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل ہے بلکہ اس سے ہمارے ہی دعوای کی تائید ہوتی ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کے لئے کوئی سزا مقر نہیں کی گئی اور جن مرتدین کو قتل کیا گیا ان کو ارتداد کی سزا میں قتل نہیں کیا گیا بلکہ ان کے دیگر جرائم کی وجہ سے ان کو قتل کی سزا دی گئی۔عسکل یا عرینہ کے لوگوں اور ابن خطل اور مقیس ابن صبابہ کے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ارتداد کی وجہ ان کے اپنے جرائم تھے۔وہ ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جن کی یقینی سزا قتل تھی اس لئے ان جرائم