قتل مرتد اور اسلام — Page 193
193 لوگوں کے متعلق کچھ مزید جواب ذیل میں درج کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان حوالجات کے بعد لوگوں کو تشفی ہو جائے گی۔(۱) ابو داؤد میں آیا ہے کہ انہوں نے صرف ایک چرواہے کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ وہ چر وا ہے کئی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔(۲) مسلم ، ترندمی ،نسائی اور دار قطنی میں حضرت انسؓ کی روایت ہے۔انما سمل النبي صلى الله عليه و سلم أعين اوليك لانهم سملوا أعين الرعاة۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی آنکھوں میں اس لئے گرم لوہے کی سلائی پھر وائی تھی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہوں سے یہی سلوک کیا تھا اور ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائیاں پھیری تھیں۔(۳) ابوداؤد کے حاشیہ پر بحوالہ لمعات لکھا ہے۔انما فعل صلعم قصاصًا لانهم كذالك فعلوا بالرعاة فانه قد روى انهم سملوا اعين الرعاة وقطعوا ايديهم وارجلهم وغرزوا الشوك في ألسنتهم وأعينهم حتى ماتوا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ ان سے سلوک کیا وہ قصاص کے طور پر کیا کیونکہ یہ روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری تھیں، ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو کاٹا تھا اور ان کی زبانوں اور آنکھوں میں کانٹے گاڑے تھے یہاں تک کہ وہ اس عذاب کو سہتے سہتے مر گئے۔(۴) روح المعانی جلد ۲ صفحہ ۱۴۸ پر لکھا ہے۔"وقيل هم العرنيون الذين اغار وا على السرح واخذوا يسارا راعى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومثلوا به فقطعوا يديه ورجليه و غرزوا الشوك فى لسانه وعينيه حتى مات۔