قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 190 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 190

190 کریں اور اس بات کا اعلان کریں کہ اسلام میں محض ارتداد کے لئے قتل کی سزا مقرر نہیں کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کوئی ایک بھی ایسا ثابت شدہ واقعہ نہیں جبکہ کسی مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل کی یا اور کسی قسم کی سزادی گئی ہو بلکہ اگر کسی مرتد کو سزا دی گئی تو وہ اس کے ارتداد کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اس کے دوسرے جرموں کی وجہ سے تھی۔جس واقعہ کو قتل مرتد کے دعویداروں نے اپنی حمایت میں پیش کیا ہے وہ صحیح بخاری اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے اور وہ اس حدیث میں مذکور ہے جو مندرجہ بالا فہرست میں نمبر (۱) میں دی گئی ہے اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ابی قلابہ انس سے روایت کرتے ہیں کہ شکل یا عرینہ قبیلے کے کچھ آدمی آئے۔مدینہ کی آب و ہوا ان کو موافق نہ آئی۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ شیر دار اونٹنیوں میں جا کر رہیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں۔وہ اونٹنیوں میں جا کر رہنے لگے۔جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دن کے ابتدائی حصہ میں اس واقعہ کی خبر پہنچی۔آپ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجے اور جب سورج اونچا ہو گیا ان کو پکڑ کر لے آئے۔آپ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دئے اور ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائی پھیری گئی اور ان کو پتھریلی زمین میں پھینک دیا گیا۔“ اب میں ناظرین کے آگے اس حدیث کے الفاظ رکھتا ہوں اور انہی سے انصاف چاہتا ہوں۔وہ اس حدیث کے الفاظ کو پڑھیں اور بتائیں کہ یہاں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا ان سے صرف ارتداد کا جرم سرزد ہوا تھایا انہوں نے کچھ اور بھی کیا تھا ؟ وہ بار بار اس حدیث کو پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ ان کو کیوں سزا دی گئی؟ حدیث ہمیں کیا بتلاتی ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے اس لئے آدمی دوڑائے تھے کہ وہ اسلام سے