قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 189 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 189

189 اب یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شرعی احکام کو صرف زبانی طور پر ہی بیان نہیں فرمایا بلکہ شریعت اسلامی کے تمام حدود کو خود عملی طور پر نافذ بھی کیا۔اللہ تعالیٰ نے خود آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے حالات پیدا کر دئے جبکہ ان شرعی احکام اور حدود کے جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔اس طرح آپ نے نہ صرف شرعی حدود کا زبانی طور پر اعلان کیا بلکہ عملاً ان کو جاری کر کے بھی دکھا دیا۔اور اس طرح دونوں پہلوؤں سے یعنی قولی و عملی طور پر آپ نے شریعت کی تکمیل فرما دی۔اب ہمارے لئے یہ نہایت خوشی کا مقام ہے کہ موجودہ بحث میں مخالفین کی طرف سے صرف قولی روایات ہی نقل نہیں کی گئیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو بھی اپنے دعوی کی تائید میں پیش کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ ایک مشہور واقعہ ہے جبکہ مرتدین کو قتل کرنے کا موقع پیش آیا اور یہی واقعہ ہمارے درمیان اور فریق ثانی کے درمیان اس بحث کا فیصلہ کر دے گا۔مخالفین کا یہ دعوی ہے کہ اسلام میں ارتداد اور تنہا ارتداد کی شرعی سزا مقرر کی گئی ہے اور ہمارا دعوی ہے کہ ارتداد کی سزا صرف جہنم ہے۔محض ارتداد کے لئے اس دنیا میں شریعت اسلام نے کوئی سزا مقرر نہیں کی۔آؤ اب ہم اسی مثال کو دیکھیں جس کو قتل مرتد کے حامیوں نے اپنے دعوای کی تائید میں پیش کیا ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عملی مثال سے مخالفین کا دعوی ثابت ہو جائے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ان کے اس دعوای کو ثابت کر دے کہ شریعت اسلام میں محض ارتداد اور تنہا ارتداد کی سزا قتل مقرر کی گئی ہے تو ہم اس غلطی کا اقرار کر لیں گے لیکن اگر اس مثال سے جس کو انہوں نے خود اپنے دعوی کی تائید میں پیش کیا ہے ہمارے ہی دعوای کی تائید ہوئی کہ ارتداد اور تنہا ارتداد کے لئے شریعت اسلام میں کوئی سزا مقر رنہیں کی گئی اور کبھی کسی مرتد کو قتل کیا گیا تو ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کسی دوسرے جرم کی وجہ سے قتل کیا گیا۔تو پھر حامیان قتل مرتد پر واجب اور لازم ہوگا کہ وہ بھی اپنی غلطی کا اقرار