قتل مرتد اور اسلام — Page 163
163 حیرت انگیز جرات ہے کہ امام موصوف اپنے مجموعہ میں کوئی ایسی حدیث درج کر سکتے ہیں جو قرآن مجید کے مخالف ہو۔“ اگر چہ یہ عذر حامیان قتل مرتد نے قرآن شریف کے معیار سے بچنے کے لئے پیش کیا ہے۔مگر اس میں انہوں نے نادانستہ قرآن شریف کو معیار بنانے کے اصول کو جس کو انہوں نے دنیا جہان سے نرالا اصول قرار دیا تھا درست تسلیم کر لیا ہے کیونکہ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک خود صاحب بخاری نے اس محک سے احادیث کو جانچا اور صرف انہی احادیث کو اپنی صحیح میں درج کیا جن کو انہوں نے قرآن کے مطابق پایا اور وہ ہرگز کسی حدیث کو اپنی کتاب میں درج نہیں کر سکتے تھے جس کو اس محک پر جانچنے کے بعد وہ قرآن شریف کے مخالف پاتے۔پس اگر یہ ایسا معیار ہے کہ جس کو خود مؤلف بخاری رحمہ اللہ علیہ نے احادیث کو جانچنے کے لئے استعمال کیا اور صرف انہی احادیث کو درج کیا جن کو انہوں نے قرآن شریف کے موافق پایا تو پھر حامیان قتل مرتد کو اس معیار کے قبول کرنے میں کیا عذر ہے؟ اور وہ کیوں اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ان کی پیش کردہ روایات کو اسی معیار کے رو سے جانچا جاوے؟ تیسرا عذر جو حامیان قتل مرتد نے قرآن شریف کو معیار قبول کرنے سے گریز کرنے کے لئے اختیار کرنے کے لئے پیش کیا ہے یہ ہے کہ۔یہ خیال کہ جو حدیث صحت و درستی کے مقررہ اور مفید یقین معیار پر پوری اترے اس کا معارض نص قرآنی ہونا اس کی پذیرائی کے مانع ہے اہل علم کے نزدیک پر کاہ جتنی وقعت بھی نہیں رکھتا۔“ اول تو یہ کہنا کہ جو حدیث صحت و درستی کے مقررہ اور مفید یقین معیار پر پوری اترے، صحیح نہیں۔کیونکہ جس طریق سے احادیث کو جمع کیا گیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا شبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا باطل